لاری ہڑتال اور بارش سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کا امکان

اجناس کی قلت کا آغاز ، عوام اور صارفین پر منفی اثر ، نئی فصل میں گراوٹ
حیدرآباد۔23جولائی(سیاست نیوز) ملک بھرمیں پٹرول و ڈیزل کی قیمتو ںمیں اضافہ کے خلاف جاری لاری ہڑتال اور ملک کے بیشتر حصوں میں ہو رہی بارش کے نتیجہ میں غذائی اجناس بالخصوص دالوں کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور گذشتہ تین یوم کے دوران دالوں کی قیمت میں 200 روپئے فی کنٹل اضافہ ریکارڈ کیا جاچکا ہے۔ حکومت ہند کے خلاف جاری لاری ہڑتال کے منفی اثرات عوام پرمرتب ہورہے ہیں اور دال اور گیہوں کی قیمت میں اضافہ کے بعد ترکاریوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ غیر معینہ مدت کے لاری بند کے سبب اشیائے ضروریہ کی منتقلی میں مشکلات کاسامنا کیا جانے لگا ہے اور ٹھوک بازاروں میں اجناس کی قلت کی شروعات ہوچکی ہے۔ ٹھوک تاجرین کا کہنا ہے کہ دال اور غذائی اجناس کی قیمتوں میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ میں تیزی سے کمی کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی کیونکہ قیمتوں میں اضافہ کے بعد ان میں گراوٹ پیداوار میں اضافہ کے بعد ہی ممکن ہوتی ہے لیکن موجودہ دور میں پیداوار میں ہونے والے اضافہ کو بڑی کمپنیوں کی جانب سے خریدے جانے اور معمولی قیمتوں کی حوالگی کے سبب غذائی اجناس کی قیمتو ں میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ میں کوئی کمی رونما نہیں ہورہی ہے بلکہ نئی فصل کے وقت قیمتوں میں معمولی گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے ۔ تاجرین کے مطابق مسور‘ تور‘ اڑد‘ مونگ‘ اور چنے کی دال کی قیمت میں گذشتہ تین یوم کے دوران فی کنٹل 200روپئے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔تاجرین نے بتایا کہ لاریوں کی ہڑتالاور بارش کے سبب ہونے والے اس اضافہ میں ڈسمبر کے اواخر تک کسی قسم کی کمی کا امکان نہیں ہے۔ گیہوں اور آٹے کی قیمت میں بھی گذشتہ دنوں کے دوران اضافہ ہوا تھا اور اب لاریوں کی ہڑتال جاری رہنے کی صورت میں آئندہ دنوں کے دوران ترکاریوں کی قیمت میں بھی اضافہ کا خدشہ ہے ۔ پٹرول اور ڈیزل کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کرنے اور سنٹرل ٹیکس میں اضافہ کے سبب ڈیزل اور پٹرول کی قیمت میں بھاری اضافہ اور یومیہ اساس پر اضافہ کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے خلاف لاریوں کی ہڑتال کا سلسلہ جاری ہے اور ملک کے مختلف علاقو ںمیں جاری شدید بارش کے باعث بھی اشیائے ضروریہ کی منتقلی اور کاشتکاروں کی پیداوار متاثر ہوئی ہے جو کہ قیمتوں میں ہونے والے اس غیر متوقع اضافہ کی وجہ مانی جا رہی ہے ۔