قلعہ گولکنڈہ کے مضبوط دروازے گرنے لگے

آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا خواب غفلت میں‘حکام تحفظ میں ناکام
حیدرآباد 8 مارچ (نمائندہ خصوصی ) تاریخی شہر حیدرآباد کی تاریخی گولکنڈہ کے حوالے سے آپ نے بارہاپڑھا اور سنا ہوگا۔ قلعہ گولکنڈہ کے تاریخی دروازوں جس کے تحفظ اور دیکھ بھال میں محکمہ آثار قدیمہ ناکام ہوچکا ہے۔ تاریخی اعتبار سے جائزہ لینے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ 924 ھ مطابق 1518 ء میں سلطان محمد شاہ بہمنی کے انتقال کے بعد دیگر صوبیدار خود مختار ہوچکے تھے‘ سلطان قلی صوبیدار تلنگانہ نے بھی اپنی خود مختاری کا اعلان کر کے گولکنڈہ کو اپنا دارالقرار بنایا تھا۔ یہ قلعہ پہلے مٹی سے تعمیر کیا گیا تھا بعدازاں سلطان قلی شاہ اول نے نئے قلعہ میں مزید عمارتوں کا اضافہ کر کے اس کو محمد نگر کے نام سے موسوم کیا ۔ ان کے بعد سلطان ابراہیم خطاب شاہ نے گچ اور پتھر سے اس کا حصار تعمیر کرایا ۔ قلعہ کی بلندی 400 فٹ اور اور طوالت چار میل ہے ۔ قلعہ کے اطراف 87 برج بنائے اور ہر برج پر توپوں کو نصب کیا گیا ۔ قلعے کے جملہ 8 دروازے ہیں جس میں 1 فتح درازہ ‘2 ۔ مکہ دروازہ ‘3 ۔ پٹنچرو دروازہ ‘4 ۔ بنجارہ دروازہ ‘5 ۔ جمال دروازہ ‘6۔ موتی دروازہ ‘ 7۔ بہمنی دروازہ ‘8 ۔ نیا قلعہ دروازہ ۔ واضح رہے کہ فتح دروازہ سے مغلیہ فوج قلعہ میں داخل ہوتی تھی اور اسی دروازے کا نام بادشاہ اورنگ زیب کا رکھا ہوا ہے۔ مذکورہ قلعہ کی حفاظت کیلئے تقریباً 30 فٹ کے بلند دروازے مکمل لکڑی کے بنے ہوئے ہیں اور ان دروازوں پر نوکدار کیل لگائے گئے تا کہ ہاتھی کی ٹکر سے اس کی حفاظت کی جاسکے اس کے علاوہ ہر قلعہ کی نگرانی کیلئے ہر دروازے پر قلعہ دار ‘نائب قلعہ دار ایک داروغہ‘ دربان، دھپڑا نواز ‘ تمڑی نواز‘ نائک واڑی وغیرہ مقرر کئے جاتے تھے۔ ساتھ ہی ہر دروازے پر 25 عروب معہ عہدیدار الگ سے ڈیوٹی انجام دیا کرتے تھے۔ یہ تمام دروازے مغرب کے فوری بعد بند کردیئے جاتے تھے اور دروازے کی کنجیاں قلعہ دار کی دیوڑھی میں رکھ دی جاتی تھیں۔ آج بھی ان میں سے 4 دروازوں سے آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے تاہم چند دن پہلے محکمہ آرکیالوجی کی غفلت اور ان تاریخی دروازوں کا خیال نہیں رکھنے کی وجہ سے موتی دروازہ کا ایک پٹ گرگیا تھا جوکہ ابھی تک اسی حالت میں موجود ہے ۔ ان تاریخی درازوں کی ایسی خستہ حالی کو دیکھ کر شہریان حیدرآباد کو کافی تکلیف ہوتی ہے ۔ محکمہ آثار قدیمہ نے ہر دروازے کے پاس ایک بورڈ لگا یا ہے جس پر تحریر ہے کہ یہ تاریخی آثار ہے اس کو نقصان پہنچانے پر جرمانہ اور قید کی سزا ہوسکتی ہے مگر افسوس ہے کہ یہ محکمہ خود اس سے غفلت برت رہا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سماجی تنظیمیں بھی حرکت میں آتے ہوئے حکومت کو توجہ دلائے اور محکمہ آثار قدیمہ کو مجبور کرے تاکہ ان تاریخی دروازوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے ۔abuaimalazad@gmail.com