قلعہ گولکنڈہ کی دیواروں پر غیرقانونی بڑے پوسٹرس

حیدرآباد ۔ 18 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : قلعہ گولکنڈہ شہر حیدرآباد کی تاریخی اور ثقافتی نشانی ہے ساری دنیا میں یہ حیدرآباد کی ایک منفرد شناخت بھی ہے اور اس کا تحفظ نہ صرف متعلقہ محکمہ حکومت بلکہ عوام کا بھی ہے لیکن ان دنوں گولکنڈہ کے اطراف کے راستے بلکہ تاریخی عمارت کی دیواروں پر بھی بڑے بڑے پوسٹرس اور بیانرس مقامی عوام میں مایوسی اور غصہ کی لہر دوڑا دی ہے ۔ مقامی قائدین بونال کے تہوار کی آڑ میں اپنی سیاسی دکان چمکانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ہیں اور گولکنڈہ کی دیواروں پر بڑے بڑے بیانرس اور پوسٹرس آویزاں کرچکے ہیں جن پر سالگرہ کی مبارکبادیں بھی تحریر ہیں ۔ مقامی شخص روی کمار نے میڈیا سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بونال کے نام پر سیاسی لیڈروں کی یہ حرکت قابل قبول نہیں کیوں کہ گولکنڈہ کو آنے والے بیرونی سیاحوں کو یہ غلط پیغام دے رہے ہیں ۔ علاوہ ازیں جگہ جگہ بڑے بڑے پوسٹروں سے حادثات کا خدشہ ہے چونکہ شہر میں گذشتہ کئی دنوں سے وقفہ وقفہ سے بارش کا سلسلہ جاری ہے اور تیز ہواؤں سے ان پوسٹروں کی موجودگی میں کسی بڑے حادثے کے خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ علاوہ ازیں ایک اور مقامی فرد ظہیر خاں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مقامی افراد روزانہ تقریبا 200 بیانروں کو سڑکوں پر برقی کھمبوں سے نکال رہے ہیں کیوں کہ یہ بیانرس عام زندگی کو متاثر کررہے ہیں ۔ حالانکہ اعلیٰ اتھاریٹی کی جانب سے عوامی مقامات اور سڑکوں پر بیانرس لگانے کی سختی سے ممانعت ہے ۔ ظہیر خاں نے مزید کہا کہ گذشتہ چند ماہ سے سالگرہ کی مبارک بادیوں کے بڑے بڑے پوسٹرس لگانے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے ۔ جو کہ سیاسی چاپلوسی کا ایک آسان طریقہ ہے ۔۔