قطعی فہرست رائے دہندگان میں این آر آئیز ووٹرس کی تنقیح ضروری

پرانے شہر میں ہزاروں غیر مقیم ہندوستانیوں کے ووٹ تلبیسی شخصی کے ذریعہ ڈلوائے جاتے ہیں : ایم بی ٹی
حیدرآباد 12 اکٹوبر (سیاست نیوز) غیر مقیم ہندوستانیوں (این آر آئیز) کے ووٹوں کر ہر انتخابات میں دھاندلیوں کے ذریعہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تلبیس شخصی کے ذریعہ یہ ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو اس سلسلہ میں کڑی نگرانی کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر ایم بی ٹی و کنوینر بی ایل ایف مجیداللہ خاں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کو قطعی فہرست رائے دہندگان میں این آر آئیز ووٹرس اور نوٹیفائی این آر آئی ووٹس کی نشاندہی کرنی ہوگی۔ تلنگانہ کے ہر اسمبلی حلقہ میں زائداز 10 فیصد این آر آئیز کے ووٹ ہیں خاص کر حیدرآباد کے حلقہ جات اسمبلی کاروان، ملک پیٹ، چارمینار، چندرائن گٹہ، بہادر پورہ اور نامپلی میں کم از کم 10 ہزار تا 15 ہزار ووٹرس این آر آئیز ہیں جو رائے دہی کے وقت ملک سے باہر ہوتے ہیں اور بعض شرپسند عناصر ان کے ووٹوں کو تلبیس شحصی کے ذریعہ ڈلواکر انتخابی کامیابی کو یقینی بناتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے پاس ایسا کوئی میکانزم ہی نہیں ہے کہ وہ این آر آئیز کو ان کے بنیادی حق ووٹ کے استعمال کی سہولت فراہم کرسکے۔ مسٹر مجید اللہ خاں فرحت نے مزید کہاکہ مجلس بچاؤ تحریک نے اس مسئلہ کو الیکشن کمیشن کے سامنے کئی بار اُٹھایا ہے اور این آر آئی رائے دہندوں کی جانب سے نمائندگی کی ہے۔ پرانے شہر حیدرآباد میں ہر کوئی جانتا ہے کہ ہر ایک اسمبلی حلقہ میں کم از کم 10 ہزار تا 15 ہزار این آر آئی ووٹس ہوتے ہیں۔ مقامی سیاسی مافیا اور سیاسی پارٹی کے کارندے بوگس اور رگنگ کے ذریعہ این آر آئی کے ووٹ ڈالتے ہیں۔ غریب مرد و خواتین کو 200 تا 300 روپئے دے کر ووٹ ڈلوائے جاتے ہیں۔ ان حلقوں کے پولنگ بوتھس پر رائے دہندوں کی شناخت نہیں کی جاتی۔ بوتھس عہدیداروں کی مدد سے ووٹ ڈالنے کی شکایت عام ہے۔ لہذا ایم بی ٹی الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ قطعی فہرست رائے دہندگان میں این آر آئی ووٹوں کی نشاندہی کرے اور دھاندلیوں کو روکنے کے لئے اقدامات کرے۔ جو لوگ تلبیس شخصی کے ذریعہ این آر آئی کے ووٹ ڈالواتے ہیں انھیں خاطی قرار دے کر سخت سزا دی جائے۔ ایم بی ٹی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیاکہ وہ ہر پولنگ بوتھ پر ہر رائے دہندہ کے چہروں کی ویڈیو ریکارڈنگ کروائے۔ پریسائیڈنگ آفیسر اور الیکشن کمیشن کے عملہ کو پابند کردیا جائے کہ وہ رائے دہندوں کی درست جانچ کریں۔ جمہوریت کی بقاء کے لئے سختی سے کام لینا ضروری ہے۔