قطب شاہی مسجد مہیشورم میں پنچوقتہ صلواۃ کی اجازت پر زور

مسجد اور اراضی وقف پر آج رپورٹ کی طلبی ، کمشنر رچہ کنڈہ سے بات چیت ، چیرمین وقف بورڈ محمد سلیم کا سخت نوٹ
حیدرآباد۔13ستمبر(سیاست نیوز) قطب شاہی دور کی قدیم مسجد کے تحفظ اور اس مسجد میں نمازوں کے احیاء میں حائل رکاوٹوں کو فوری دور کیا جائے گا اور کمشنر رچہ کنڈہ سے بات چیت کرتے ہوئے معاملہ کی یکسوئی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ جناب محمد سلیم صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے پولیس کی جانب سے مہیشورم علاقہ میں واقع قطب شاہی دور کی مسجد میں نماز کی بحالی میں رکاوٹ پیدا کئے جانے کا سخت نوٹ لیتے ہوئے وقف بورڈ کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ فوری مسجد کا دورہ کرتے ہوئے نماز کی بحالی کے اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ مقامی مسلمانوں میں پھیلی تشویش کو دور کیا جاسکے ۔ الحاج محمد سلیم نے کہا کہ مسجد میں نماز کی ادائیگی سے روکنے کا پولیس کو کوئی حق حاصل نہیں ہے اسی لئے فوری طور پر کمشنر پولیس رچہ کنڈہ سے نمائندگی کرتے ہوئے اس قطب شاہی مسجد میں نمازوں کے آغاز کی راہ ہموار کی جائے گی۔انہو ںنے کہا کہ ریاستی وقف بورڈکی جانب سے نہ صرف مسجد بلکہ مسجد کے تحت موجود 2ایکڑ 20گنٹہ اوقافی اراضی کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کئے جائیں گے کیونکہ موقوفہ اراضی کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی بلکہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ ان اوقافی اراضیات کے تحفظ کا ذمہ دار ادارہ ہے اسی لئے بورڈ کے عہدیداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ 14ستمبر کو مہیشورم میں واقع اس مسجد اور اوقافی اراضی کا معائنہ کرتے ہوئے فوری رپورٹ پیش کریں ۔مہیشورم سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے وفدنے مسٹر ایم اے فرید کی زیر قیادت صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ و رکن قانون ساز کونسل سے ملاقات کرتے ہوئے اس بات سے واقف کروایا اور کہا کہ اس سلسلہ میں وقف بورڈ میں تحریری شکایت بھی درج کروائی گئی ہے ۔ انہوں نے صدرنشین کو بتایا کہ اس غیر آباد قطب شاہی مسجد کو آباد کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کے ساتھ ہی محکمہ پولیس نے مداخلت کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور آہک پاشی کے بعد یہ کہہ دیا گیا کہ اس مسجد کو دوبارہ آباد نہیں کیا جاسکتا جبکہ مذکورہ قطب شاہی مسجد و اوقافی اراضی کا اندراج گزٹ میں موجود ہے۔ محمد سلیم نے مقامی عوام کی شکایت کی سماعت کے فوری بعد بورڈ کے عہدیداروں کو ہدایت جاری کی کہ وہ اس سلسلہ میں فوری کاروائی کا آغاز کریں اور ضرورت پڑنے پر مسجد کو آباد کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کرنے والوں کے خلاف شکایت درج کروائیں کیونکہ اوقافی جائیداد و مساجد میں کسی بھی طرح کی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔