حیدرآباد ۔ 9 ۔ جون : قطب شاہی دور کا آخری نشان سمجھا جانے والا اپنی نوعیت کا واحد فوارہ بے اعتنائی اور لاپرواہی کا شکار تھا اور اس 423 سالہ نادر و قیمتی تاریخی اثاثے کے وجود کو ہی خطرہ لاحق ہوچکا تھا جو کہ 40 سال سے بند پڑا تھا ۔ لیکن ہائی کورٹ کے پارکنگ میں موجود اس نادر فوارہ کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے لیے اقدامات ہوچکے ہیں اور اس کی چار صدی قبل موجود شکل دلوانے کے لیے کافی نزاکت کے ساتھ اس کی تزئین نو کا کام شروع ہوچکا ہے ۔ آثار قدیمہ کی حفاظت اور نگہداشت کی خصوصی آرکیٹک انورادھا نائیک اسوسی ایٹ کو اس کی انتہائی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ نمائندہ سیاست سے اظہار خیال کرتے ہوئے انورادھا نے کہا کہ چونکہ یہ فوارہ اپنی نوعیت کا واحد اور قطب شاہی سلطنت کا واحد شاہکار ہے اس لیے اس کی تزئین نو اور اس کو قدیم حالت میں دوبارہ لانے کے لیے کام انتہائی نزاکت اور پوری توجہ سے کیا جارہا ہے ۔ اس کام کے لیے چھتیس گڑھ کے کاریگروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو کہ پوری توجہ کے ساتھ اس نادر فوارہ کو اصلی حالت میں لانے پر اپنی توانائی صرف کررہے ہیں ۔ انورادھا کے بموجب ابتدائی مرحلے میں اس کے اطراف و اکناف کی صاف صفائی کی جارہی ہے جب کہ فوارہ کے تمام نوزلس بند ہوچکے ہیں اور ان کو دوبارہ کارکرد بنانے کے بعد ہی اس فوارہ کے ذریعہ پانی کا بہاؤ یقینی ہوگا ۔
انورادھا نے کہا ہے کہ حتی المقدور یہ کوشش کی جارہی ہے کہ اس نادر فوارہ کو دوبارہ ایسا بحال کیا جائے جیسا کہ قطب شاہی دور میں یہ فوارہ دکھائی دیتا تھا ۔ اہم اور نزاکت سے بھرے اس کام کی تکمیل کے لیے مزید ایک ماہ درکار ہے ۔ جس کے بعد یہ تاریخی فوارہ دیکھنے کے لائق ہوجائے گا ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بانی شہر حیدرآباد محمد قلی قطب شاہ کے دور کا ہشت پہلو فوارہ قدیم وکٹوریہ سرکاری میٹرینٹی ہاسپٹل ( قدیم زچگی خانہ ) نیا پل کے احاطہ میں تھا جواب ہائی کورٹ کے پارکنگ میں واقع ہے ۔ دواخانے کے اس وسیع علاقہ کو پارکنگ کے لیے ہائی کورٹ کے حوالے کیا گیا ہے ۔ بیشتر شہریوں نے اس خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ تاریخی اہمیت کا حامل اور نادر اس فوارہ صفہ ہستی سے مٹ جانے کا امکان ہے اور اس تناظر میں ہی قدیم عمارات کے تحفظ کے حامی افراد اور عظیم ثقافتی ورثہ کی حامل عمارات سے محبت کرنے والوں کا یہ احساس تھا کہ اس فوارہ کا اصل مقام سالار جنگ میوزیم ہے جہاں اس کی حفاظت اور سینکڑوں افراد کو اس کے مشاہدہ کا موقع ملے گا لیکن ہائی کورٹ نے قابل ستائش فیصلہ کرتے ہوئے نہ صرف اس فوارہ کو سالار جنگ میوزیم منتقل کرنے نہیں دیا بلکہ اسی مقام پر اس کی عظمت رفتہ بحال کرنے کے اقدامات اور ہدایات جاری کی ہیں ۔ سیاہ سنگ مرمر سے تیار کردہ یہ چمکدار فوارہ 423 سالہ قدیم ہے ۔ شکل میں یہ ہشت پہلو ہے اور 2 حصوں میں منقسم ہے ۔ اس کے آٹھوں سمت نقش و نگار سے مزین ہاتھیوں کے ساتھ شیر ہیں ۔ اس پر چھوٹے نمایاں کلس کے ساتھ گول گنبد ہے ۔ ہاتھی کی سونٹھ سے پانی نکلنے کا منظر بہترین اور دلکش نظر آتا ہے ۔ اس فوارہ کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے اس کا حوض مستعمل ناریلوں اور پلاسٹک کی تھیلیوں سے بھرا پڑا تھا اور اس کے اطراف کی آہنی جالی بھی بعض مقامات سے ٹوٹ چکی تھی ۔ یہ فوارہ دراصل قطب شاہی محل ( ندی محل ) سے متصل امین باغ کا حصہ ہے
جس کی باقیات پر ہائی کورٹ کی عمارت تعمیر کی گئی ہے ۔ اس فوارہ کی انوکھی حقیقت اس کی دور قدیم سے وابستگی ہونے کے باوجود اس طرح کا فوارہ نہ ہی چومحلہ پیالیس اور نہ ہی پرانی حویلی میں ہے ۔ اب جب کہ اس تاریخی فوارہ کی تزئین نو کا کام شروع ہوچکا ہے تو جب یہ فوارہ اپنی اصلی حالت میں آجائے گا تو ہائی کورٹ کی تاریخی عمارت کی دلکشی میں مزید چار چاند لگ جائیں گے ۔ تاریخی فن تعمیر کے اس شاہکار فوارہ سے عوام کی اکثریت نہ واقف ہے لہذا جب ایک مرتبہ یہ فوارہ اپنی اصلی حالت میں آجائے گا تو انہیں کم از کم ایک مرتبہ اس فوارہ کا نظارہ ضرور کرنا چاہئے ۔ جس کے ذریعہ وہ قطب شاہی دور کی نادر تعمیری شاہکار سے واقف ہوسکیں گے کیوں کہ ایسا فوارہ قطب شاہی یا پھر دکن کی تاریخی عمارات میں دوسرا کہیں اور موجود نہیں ہے ۔۔