نیا قلعہ کی فصیل انتہائی مخدوش ، خودرو پودے پیڑوں میں تبدیل
حیدرآباد۔25جولائی (سیاست نیوز) قلعہ گولکنڈہ کی تاریخی اہمیت کے مطابق قلعہ کے تحفظ کے بجائے سرکاری محکمہ جات کی جانب سے اختیار کردہ لاپرواہی کے سبب 500 سالہ قدیم گولکنڈہ قلعہ کی خندق تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور نیا قلعہ کی فصیل انتہائی مخدوش ہوتی جارہی ہے کیونکہ فصیل کے پتھروں کو جوڑنے والے حصوں میں درخت اگنے لگے ہیں اور خندق میں بہائے جانے والے آلودہ پانی سے ان درختوں کی از خود سینچائی ہونے لگی ہے جو کہ قلعہ کی فصیل کو تباہ کرسکتی ہے۔ قلعہ گولکنڈہ سے متصل گولف کورس کے آغاز کے بعد سے نیا قلعہ کو لاحق خطرہ کے بعد اب شاہ حاتم تالاب سے خارج ہونے والے پانی کے اخراج کو قلعہ کی خندق میں ممکن بنانے کے اقدامات سے حالات انتہائی ابتر ہو چکے ہیں اور قلعہ کی خندق اور فصیل جو کہ آثار قدیمہ کا حصہ ہے اسے خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے 15اگست کو یوم آزادی کے موقع پر گولکنڈہ میں پرچم کشائی انجام دی جا رہی ہے لیکن قلعہ گولکنڈہ کو لاحق خطرات سے اسے بچانے کے کوئی اقدامات نہ کئے جانے کے سبب اس قدیم تاریخی ورثہ کو نقصان پہنچنے کے شدید خدشات پیدا ہوچکے ہیں۔شاہ حاتم تالاب میں تعمیری ملبہ پھینکے جانے کی سرگرمیوں کے بعد صورتحال مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ شہر حیدرآباد میں تاریخی ورثہ کے تحفظ کیلئے حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات کے اعلانات کئے جا رہے ہیں لیکن ان اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلہ میں کوئی سرگرمیاں نظر نہیں آرہی ہیں بلکہ قلعہ گولکنڈہ جو کہ شہر کے قدیم ترین تاریخی عمارتو ںمیں شامل ہے اس کے تحفظ کے بجائے سرکاری محکمہ جات کی جانب سے ہی اس عمارت کی فصیل اور خندق کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے ۔قلعہ گولکنڈہ کے اطراف آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے قوانین کے مطابق کسی بھی قسم کی تبدیلیوں کے لئے محکمہ آثار قدیمہ سے اجازت حاصل کرنی ہوتی ہے لیکن ریاست کے سرکاری محکمہ جات کی جانب سے انجام دی جانے والی سرگرمیوں کے متعلق تفصیلات حاصل کرنے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ سے خندق میں پانی کے اخراج کیلئے کوئی اجازت حاصل نہیں کی گئی ہے اور اگر اجازت طلب بھی کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے قلعہ گولکنڈہ کی خندق میں پانی چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ خندق میں پانی چھوڑے جانے سے نہ صرف خندق بلکہ قلعہ کی بیرونی فصیل کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔