قاہرہ مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہ ہوسکی ،جنگ کے خطرات

تل ابیب ؍ غزہ سٹی ، 18 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) غزہ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2000 سے متجاوز ہوگئی اور مصالحت کی کوششیں اب تک بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکی ۔ 8 دن سے جنگ بندی برقرار ہے لیکن جیسے جیسے اس کی مدت ختم ہورہی ہے عوامی تشویش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں اور قاہرہ میں جاری مذاکرات کے دوران دونوں نے بھی قابل قبول مفاہمت کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے ۔ دونوں فریقوں کے پاس معاہدہ کیلئے صرف چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں اور جنگ بندی کی مدت ختم ہوتے ہی لڑائی دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ وزیراعظم اسرائیل نیتن یاہو نے کہا کہ اگر غزہ سے راکٹ حملے شروع کئے گئے تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا ۔ انھوں نے کہاکہ ہم کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ تل ابیب میں کابینہ کے ہفتہ وار0 اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ’’اگر اسرائیل کی سلامتی سے متعلق ہمارے مطالبات کا مثبت جواب ملتا ہے تو ہم جنگ بندی کی بات چیت کو آگے بڑھائیں گے، ورنہ قاہرہ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے‘‘۔اس دوران اسلامی تحریک مزاحمت’’حماس‘‘نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق اس کے مطالبات قومی امنگوں کے عین مطابق ہیں، جن سے کسی صورت میں دستبردار نہیں ہوں گے۔ حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے غزہ کی پٹی میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ’’ہم اپنے جائز اور قومی مطالبات پر قائم ہیں۔ واضح رہے کہ فلسطینی علاقے غزہ پٹی میں مزید زخمیوں کے دم توڑنے کی اطلاعات ہیں۔ غزہ کے مرکز صحت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حماس کی جانب سے راکٹ داغنے کے جواب میں تقریباً ایک مہینے تک جاری رہنے والی اسرائیلی فوجی کارروائی کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 2016 تک پہنچ گئی ہے۔ اِن ہلاکتوں میں 541 بچے اور 250 خواتین کے علاوہ 95 عمر رسیدہ افراد شامل ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ اُن کے پاس مہلوکین میں 64 فوجی شامل ہیں جن میں سے 5 خود اپنے ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بنے تھے۔
سونیا گاندھی کی صدر جمہوریہ سے ملاقات
نئی دہلی۔ 18 اگست ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )صدر کانگریس سونیا گاندھی نے آج صدرجمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات کی ۔ اس ملاقات کا مقصد فوری طورپر معلوم نہ ہوسکا لیکن لوک سبھا میں قائد اپوزیشن کے عہدہ کیلئے کانگریس کے مطالبہ کے پس منظر میں سونیا گاندھی کی اس ملاقات کو نمایاں اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ صدر کانگریس نے حالیہ بجٹ سیشن میں ملک میں بڑھتے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پر حکومت کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا تھا۔