قانون ساز کونسل سے جاری کردہ پاسیس میں ریاست کے لوگو سے اردو غائب

محمد علی شبیر کا احتجاج ، مکمل جانچ کروانے محمود علی قائد ایوان کے تیقن پر حلف برداری

حیدرآباد ۔ 9 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ قانون ساز اسمبلی و کونسل کی جانب سے جاری کردہ پاسیس پر موجود ریاست کے نئے لوگو سے اردو کو غائب کردئے جانے پر جناب محمد علی شبیر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حلف لینے سے انکار کردیا ۔ قائد ایوان جناب محمود علی اور پھر قائد اپوزیشن مسٹر ڈی سرینواس کے بعد ڈپٹی فلور لیڈر کی حیثیت سے جناب محمد علی شبیر کو تیسرے نمبر پر حلف لینا تھا لیکن انہوں نے لوگو سے اردو ہٹا دئیے جانے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حلف نہ لینے کا اعلان کیا لیکن متعدد ارکان کی جانب سے اپیل کے بعد بھی جناب محمد علی شبیر نے حلف لینے سے انکار کردیا ۔ آخر میں جناب محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر نے اس معاملہ میں مداخلت کرتے ہوئے جناب محمد علی شبیر سے خواہش کی کہ وہ حلف لیں اور کہا حکومت لوگو سے اردو غائب ہونے کے معاملہ کی مکمل جانچ کرے گی ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے انہیں اس بات کا تیقن دیا کہ وہ اس پورے معاملہ کی حقیقت سے آگہی کے بعد لوگو میں اردو کو شامل کرنے کے سلسلہ میں ضروری اقدامات کریں گے ۔ جناب محمود علی کے اس تیقن و مداخلت کے بعد جناب محمد علی شبیر نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے رکن کی حیثیت سے اپنے عہدہ کا حلف لیا ۔ ابتداء میں جناب محمد علی شبیر نے لوگو کے معاملہ میں سنجیدہ نوٹ لیتے ہوئے حکومت سے خواہش کی کہ وہ اس مسئلہ کو حل کریں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ حکومت نے تلنگانہ ریاست کے نئے لوگو میں اردو زبان کو بھی شامل رکھا ہے لیکن جب ریاست کے لوگو میں اس زبان کو رکھا گیا تو پھر قانون ساز ادارے کی جانب سے لوگو میں اردو کیوں شامل نہیں کی گئی ۔ بعد ازاں جناب محمد علی شبیر نے بتایا کہ اردو کی ترقی اور زبان کی ترویج کے لیے وہ اپنی جدوجہد ہمیشہ جاری رکھیں گے ۔ جناب محمد علی شبیر نے اردو زبان میں اللہ کے نام پر حلف لیا۔۔