جہدکاروں کو دھمکیاں ، آر ٹی آئی کے تحت فیس ادائیگی کے باوجود اطلاعات کی عدم فراہمی
حیدرآباد ۔ 21 نومبر ۔ ( سیاست نیوز ) طرز حکمرانی کو صاف و شفاف بنانے کے علاوہ ملازمین میں جواب دہی کا احساس پیدا کرنے کیلئے حکومت نے قانون حق آگہی 2005 روشناس کروایا لیکن اس قانون میں موجود گنجائش کا ملازمین و عہدیداروں کی جانب سے استحصال کئے جانے کی متعدد شکایات کے ساتھ ساتھ قانون حق آگہی کا استعمال کرتے ہوئے حقائق سے عوام کو واقف کروانے والے جہد کاروں کو دھمکیوں کی شکایات بھی منظرعام پر آئی ہیںلیکن حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ نے قانون حق آگہی کے تحت داخل کردہ ایک درخواست کا جواب دیتے ہوئے درخواست گذار کو 32,470 روپئے درکار معلومات کی فراہمی کیلئے ادا کرنے کی خواہش کی ہے ۔ محمد عبدالاکرم نامی نوجوان نے مبینہ طور پر 13 نومبر کو ایک درخواست داخل کرتے ہوئے 2009 تا 2014 کے درمیان شہر میں بورویلس کی منظوری اور کھدائی کے کاموں کے موقف کے متعلق تفصیلات طلب کی تھی ۔ ان پانچ برسوں کے دوران منظورہ کاموں کے موقف کے ساتھ ساتھ ایم اے اکرم نے مبینہ طور پر مغل پورہ وارڈ میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں و ملازمین کی تفصیلات اور میر عالم ڈیویژن میں موجود مین ہول کے ڈھکنوں کی تبدیلی پر کئے گئے اخراجات کی تفصیل طلب کی تھی ۔ ان تفصیلات کی فراہمی کے بجائے مسٹر ایس وی رمنا راؤ جنرل منیجر ، انجینئرنگ شعبہ میرعالم ڈیویژن نے آر ٹی آئی کے تحت داخل کردہ درخواست کا جواب دیتے ہوئے بطور فیس 32,470 روپئے ادا کرنے کی ہدایت دی ۔ اور لکھا گیا کہ اس رقم کی ادائیگی کے بعد اندرون 8 یوم مذکورہ تفصیلات فراہم کی جائیں گی ۔ محکمہ آبرسانی کی جانب سے روانہ کردہ مکتوب میں پانچ مدات کے تحت فیس کی وصولی کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں جس میں ایک ٹکنیکل آفیسر کی 8 یوم کی تنخواہ تقریباً 17,240 روپئے کی ادائیگی کے علاوہ شعبہ انجینئرنگ کے ایک منیجر کی 3 یوم کی تنخواہ 4,434 روپئے کے علاوہ ایک اٹنڈر کی تنخواہ یومیہ 959 روپئے 8 یوم کے اعتبار سے 7672 روپئے اور ڈاٹا پروسیسنگ آفیسر کی 8 یوم کی تنخواہ 3064 روپئے کے علاوہ 30 صفحات پر مشتمل ڈاٹا کیلئے فی صفحہ 2 روپئے کے اعتبار سے 60 روپئے جملہ 32,470 روپئے ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ ماہرین کے بموجب دریافت کردہ معلومات کی فراہمی کیلئے جملہ خرچہ 60 روپئے ہی ہونا چاہئے چونکہ جو تفصیلات طلب کی گئی ہیں وہ 2009 سے طلب کردہ ہیں ۔ اس اعتبار سے تمام معلومات آن لائین یا اُن کا ڈیٹا موجود ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔ اسی لئے معلومات کی فراہمی میں محکمہ آبرسانی کو تامل نہیں برتنا چاہئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ درخواست گذار نے جو معلومات اکٹھا کرنے کیلئے درخواست داخل کی ہے ، اُس کے افشاء کی صورت میں محکمہ آبرسانی کا بہت بڑا اسکام منظرعام پر آسکتا ہے ، اسی لئے محکمہ آبرسانی کے عہدیدار مذکورہ درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے قانون حق آگہی 2005 کے تحت جواب دینے کے بجائے ایسے شرائط عائد کررہے ہیں جس سے درخواست گذار پر بوجھ عائد ہو اور وہ مزید معلومات کے حصول کی کوشش ہی نہ کرے۔ محکمہ آبرسانی کی جانب سے روانہ کئے گئے جوابی مکتوب میں قانون حق آگہی کی دفعہ 7 کی شق 3 کا حوالہ دیتے ہوئے 32,470/- روپئے جمع کروانے کی ہدایت دی گئی ہے ۔