مشیر آباد حلقہ اسمبلی میں قائدین کی دوڑ دھوپ ، خصوصی توجہ مرکوز
حیدرآباد ۔24 ۔ مارچ (سیاست نیوز) عام انتخابات کیلئے پرچہ نامزدگی کے ادخال کی تاریخ جیسے جیسے قریب آرہی ہے، سینئر قائدین اپنے اپنے افراد خاندان کو انتخابی میدان میں اتارنے کی تیاریوں میں مصروف ہوچکے ہیں۔ یوں تو ہر پارٹی میں سینئر قائدین اپنے فرزند یا پھر کسی اور رشتہ دار کیلئے پارٹی ٹکٹ کے حصول کے سلسلہ میں کوشاں ہیں، تاہم یہ جدوجہد کانگریس پارٹی میں کچھ زیادہ ہی دکھائی دے رہی ہے۔ بیشتر کانگریس قائدین خود انتخابی میدان میں اترنے کے بجائے اپنے فرزند کو سیاسی جانشین کے طور پر عوام میں متعارف کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح کی دوڑ سیما آندھرا کے مقابلہ تلنگانہ میں خود زیادہ ہی دیکھی جارہی ہے۔ کانگریس کے تلنگانہ قائدین ہائی کمان سے رجوع ہوکر اپنے سیاسی جانشین کے ٹکٹ کیلئے دوڑ دھوپ کر رہے ہیں۔ حیدرآباد میں سب سے زیادہ جس حلقہ کیلئے قائدین کی دوڑ دھوپ ہے ، وہ حلقہ مشیر آباد ہے جہاں سے 2009 ء میں سابق چیف منسٹر آنجہانی ٹی انجیا کی بیوہ ٹی مانیما نے کامیابی حاصل کی تھی۔ چونکہ ان کی صحت اس قابل نہیں کہ وہ انتخابات میں حصہ لے سکیں لہذا کئی قائدین کی نظریں اس حلقہ پر مرکوز ہیں اور وہ اپنے اپنے فرزند کو اس حلقہ سے میدان میں اتارنا چاہتے ہیں۔ حیدرآباد اور رنگا ریڈی میں جملہ 28 اسمبلی حلقے ہیں لیکن ان میں حلقہ اسمبلی مشیر آباد خود کانگریس ہائی کمان کیلئے بھی ایک درد سر بن چکا ہے۔ ایک طرف دیگر قائدین اپنے فرزند کو مشیر آباد سے ٹکٹ الاٹ کرنے کی مہم چلا رہے ہیں تو دوسری طرف خود مانیما انجیا نے ان کے بجائے اپنے فرزند سرینواس کا نام ہائی کمان کو پیش کیا۔ سکندرآباد کے رکن پارلیمنٹ انجن کمار یادو اپنے فرزند انیل کمار یادو کو مشیر آباد سے انتخاب میں اتارنے کے خواہاں ہیں، اسی طرح ریاستی وزیر ایم مکیش گوڑ اپنے فرزند ایم وکرم گوڑ کو مشیر آباد سے کانگریسی امیدوار کے طور پر متعارف کرانے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔
ڈاکٹر پی شنکر راؤ اپنی دختر پی سشمیتا کو سکندرآباد کنٹونمنٹ حلقہ سے ٹکٹ دینے کیلئے کانگریس ہائی کمان پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ سابق ریاستی وزیر داخلہ سبیتا اندرا ریڈی اپنے فرزند پی کارتیکا ریڈی کو حلقہ اسمبلی راجندر نگر سے میدان میں اتارنا چاہتی ہیں۔ وہ حلقہ اسمبلی مہیشورم کی نمائندگی کرتی ہیں، تاہم وہ اس بار حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ سابق چیف منسٹر ایم چنا ریڈی کے فرزند ایم ششی دھر ریڈی جو حلقہ اسمبلی صنعت نگر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے آئندہ انتخابات کے لئے اپنے جانشین کے طور پر فرزند ایم ادتیہ ریڈی کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ کانگریس ہائی کمان سے بھی رجوع ہوچکے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس اعلیٰ کمان ٹکٹوں کی تقسیم کے موقع پر کتنے قائدین کے سیاسی جانشین کے حق میں فیصلہ کرے گا۔ ان کے علاوہ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی پونالہ لکشمیا ،
ورنگل کے کسی حلقہ سے اپنی بہو ویشالی کو میدان میں اتارنا چاہتے ہیں۔ سابق صدر پردیش کانگریس ڈی سرینواس نظام آباد اربن سے اپنے فرزند کو ٹکٹ دلانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ وہ خود نظام آباد رورل اسمبلی حلقہ کے امیدوار ہیں۔ سابق وزیر محمد علی شبیر کے فرزند محمد الیاس حلقہ اسمبلی کاما ریڈی سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ کانگریس کے علاوہ آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس کے سربراہ چندر شیکھر راؤ کے گھر سے تین امیدوار میدان میں ہوں گے۔ کے سی آر خود لوک سبھا اور اسمبلی کیلئے مقابلہ کریں گے جبکہ ان کے فرزند کے ٹی راما راؤ کریم نگر کے حلقہ اسمبلی سرسلہ ، بھانجے ہریش راؤ حلقہ اسمبلی سدی پیٹ سے میدان میں ہوں گے۔ توقع ہے کہ کے سی آر کی دختر کویتا حلقہ لوک سبھا نظام آباد سے اپنی قسمت آزمائیں گی۔