فوڈ ڈیلیوری بوائز کی چاندی ، ماہانہ 75 ہزار کی آمدنی

اسمارٹ فونس کے ذریعہ کھانوں کے آرڈر کی تجارت عروج پر
حیدرآباد ۔ 19 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : محنت کرنے والوں کو پھل ضرور ملتا ہے اس کی بہترین مثال اسمارٹ فونس اور بائیک کے شوقین نوجوانوں کے روزانہ 1500 روپئے تک کی آمدنی نے پھر ایک مرتبہ ظاہر کردیا ہے ۔ فی الحال کھانے پینے کی اشیاء گھروں تک پہنچانے کا کاروبار عروج پر ہے اور کمپنیاں نوجوانوں کو اطمینان بخش پیسے فراہم کرتے ہوئے اپنی خدمات کو صارفین کی نظروں میں شاندار بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہیں ۔ کمپنیوں کی جانب سے زیادہ سے زیادہ ڈیلیوریز پر زیادہ پیسے فراہم کرنے کے فارمولے کی وجہ سے بعض نوجوان زیادہ آمدنی کے لیے 12 گھنٹے سے زیادہ کا وقت بھی سڑکوں پر صرف کررہے ہیں ۔ کمپنیوں کی جانب سے موبائل ایپ پر کھانوں کا آرڈر پھر نوجوانوں کی جانب سے متعلقہ مقام پر آرڈر پہنچانے میں نوجوانوں کو کسی قسم کا کوئی ذہنی دباؤ بھی نہیں اور آج کے نوجوانوں کو بائیک پر شہر کی سڑکوں پر گھومنا کوئی دقت کا کام نہیں اور بہ آسانی پیسے بھی مل جاتے ہیں ۔ کھانے کو گھروں تک پہنچانے کے معاملے میں قومی اور بین الاقوامی کمپنیوں میں مسابقتی رسہ کشی عروج پر ہے جیسا کہ ریسٹورنٹ سے 5 کلومیٹرس کے دائرے میں کھانے گھروں تک پہنچانے کا کاروبار نوجوانوں کو اپنی طرف کافی کھینچ رہا ہے کیوں کہ ایک آرڈر پر اوسطاً 60 روپئے مل رہے ہیں اور جب فاصلہ 5 کلو میٹرس سے بڑھ جاتا ہے تو آمدنی میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے جب کہ سواگی ، نامی کمپنی ہفتے کے آخری دنوں جمعہ ، ہفتہ اور اتوار کو ایک ڈیلیوری پر 150 روپئے فراہم کررہی ہے ۔ جب کہ محمد عبدالستار ( نام تبدیل ) کے بموجب جب انہوں نے ’ زوماٹو ‘ میں ملازمت شروع کی تو اس وقت یہاں ماہانہ 75 ہزار روپئے آمدنی حاصل کرنے والے نوجوانوں کا ریکارڈ بھی رہا ہے کیوں کہ ایک مہینے میں انہوں نے 220 آرڈرس کی تکمیل کی تھی ۔ آٹو اور ویان کی بہ نسبت 2 پہیوں کی گاڑیوں پر آرڈرس منزل مقصود تک کم وقت میں پہنچ جاتا ہے جس کے لیے شہر حیدرآباد و سکندرآباد کی مشہور ہوٹلوں میں پستہ ہاوز ، شاہ غوث ، ہائی لائن اور پیراڈائز وغیرہ بھی شامل ہیں ۔۔