فلک نما پیالیس سے متصل مسجد غیر آباد ، مندر آباد ، کون ذمہ دار

اپنوں کی غفلت سے مسجد تک سیڑھیاں تعمیر کرنے میں ناکامی ، 200 سالہ قدیم مسجد کی عظمت رفتہ کی بحالی ضروری
حیدرآباد ۔ 18 ۔ نومبر : ( ابوایمل ) : بے شک مساجد اللہ کے گھر کو کہا جاتا ہے ۔ لیکن ان گھروں کی ظاہری حفاظت اور صیانت کی تمام ذمہ داری اہل ایمان یعنی مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے ۔ اگر کسی مسجد کی حرمت و تقدس پامال ہوتی ہے تو اس وقت کے مسلمانوں کو اپنے پروردگار کے روبرو جوابدہ ہونا ہوگا ۔ حیدرآباد وہ شہر ہے جو کبھی اسلام اور مسلمانوں کی آماجگاہ بنا رہا ۔ مگر جب یہ مسلمان بتدریج اپنے عارضی دنیوی گھروں کی تعمیر و حفاظت میں ایسے منہمک ہوگئے کہ پروردگار کے مقدس گھروں کی حفاظت اور اسے آباد کرنے سے غافل ہوگئے ۔ اس کی ایک مثال ’ مسجد فلک نما پیالیس ‘ ہے جو اپنوں کی لاپرواہی سے تقریبا 24 سال سے داغ دوزی اور مرمت سے بھی محروم ہے ۔ فلک نما کے باب الداخلہ کے بائیں جانب تقریبا 100 فٹ کی بلندی پر مذکورہ مسجد واقع ہے جسے سروقار الامراء نے فلک نما کی تعمیر کے وقت ہی تعمیر کروایا تھا ۔ مگر آج یہ مسجد تقریبا غیر آباد ہے چونکہ اس مسجد کو جانے کے لیے سیڑھیاں موجود نہیں ہے ۔ جس کے نتیجہ میں صرف ایک صاحب جو اس مسجد کے خادم ہیں وہی یہاں تنہا نماز پڑھتے ہیں ۔ مسجد کی حالت انتہائی خستہ ہے ۔ چھت بالکل بوسیدہ ہوچکی ہے جس کی فوری مرمت اور داغ دوزی کی سخت ضرورت ہے ۔ حالانکہ یہ مسجد نظام ٹرسٹ کے زیر نگرانی ہے ۔ وقف گزٹ میں اس کا اندراج ہے ۔ مگر ان کی روایتی بے حسی اور لاپرواہی کا یہ مسجد بھی شکار ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسی مسجد سے کچھ فاصلے پر اسی بلندی پر فلک نما پیالیس کے احاطے میں ایک مندر بنایا گیا ہے جہاں تک پہنچنے کے لیے باضابطہ پتھروں کی سیڑھیاں بنائی گئی ہیں ۔ مقامی ذرائع کے مطابق ایک مقامی کارپوریٹر نے اپنے فنڈ سے یہ سیڑھیاں تعمیر کرپائے ۔ جب کہ ایک ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقامی غیر مسلموں نے آپس میں چندہ کر کے سیڑھی تعمیر کی ہے ۔ حقیقت خواہ کچھ بھی ہو ۔ سوال یہ ہے کہ اسی بلندی پر موجود مندر تک پہنچنے کے لیے سیڑھیاں بنائی جاسکتی ہیں تو پھر مسجد فلک نما تک جانے کے لیے سیڑھیاں کیوں نہیں بنائی جاسکتی ؟ یا کیوں نہیں بنائی گئی ۔ اس میں تو کوئی دورائے نہیں ہے کہ اس کے لیے نظام ٹرسٹ اور وقف بورڈ ذمہ دار ہے ۔ مگر کیا مسلمانان حیدرآباد ان اداروں کی بے حسی کا ہی رونا روتے رہیں گے ۔ کیا مسلمانوں کے سیاسی قائدین ادارے یا کوئی ہمدردان ملت اپنے طور پر سیڑھیاں تعمیر نہیں کرسکتے ؟ تاکہ قریب کے مسلمان بھی اس مسجد میں جاکر نماز ادا کرسکے ۔ یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ 100 فیصدی مسلم آبادی والے اس علاقے میں یہ مسجد محض سیڑھیوں کی عدم موجودگی سے تقریبا غیر آباد ہوکر رہ گئی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ وقار الامراء نے اس مسجد کے لیے سیڑھیاں بنائی تھیں مگر بارش اور دیگر حالات کے باعث یہ سیڑھیاں بتدریج منہدم ہوگئیں ۔ واضح رہے کہ وقار الامراء اقبال الدولہ 1856 میں پیدا ہوئے تھے ۔ 1882 میں لندن جاکر واپس آنے کے بعد فلک نما تعمیر کرایا تھا ۔ جو دو سو سال قدیم ہے اور 35 ایکڑ اراضی پر محیط ہے اور اس کی تعمیر پر 40 لاکھ روپئے صرف ہوئے تھے ۔ جس کے تین حصے زنانہ محل ، مردانہ محل اور گول بنگلہ ہے ۔ یہ عمارت اوپر سے دیکھنے میں بچھونی نظر آتی ہے ۔ اسی سے متصل انہوں نے یہ مسجد تعمیر کرائی تھی جو آج اپنوں کی بے اعتنائی سے کثیر مسلم آبادی میں ہونے کے باوجود اس کی دیکھ بھال ، داغ دوزی اور مرمت سے محروم ہے ۔ جو ہمارے منہ پر ایک طمانچہ ہے اور یقینا اس کے لیے ہمیں خداکے حضور جوابدہ ہونا ہوگا ۔ واضح رہے کہ مسجد فلک نما کا وقف گزٹ ریکارڈ اس طرح ہے ۔۔
Hyd/1862, Masjid Falaknuma
Area-20,800 sqyft, ward-18, gaz-KBI, F.No.146/2/1960, Date 12-12-1964. Pg.141.