فلمیں، ہندوستانی ثقافتی ورثہ کا حصہ ۔ تحفظ کی ضرورت

اُردو یونیورسٹی میں ممتاز فلم ساز شیویندر سنگھ ڈونگرپور کا لکچر۔ سیلولائیڈ مین کی نمائش
حیدرآباد، 21؍ مارچ (پریس نوٹ) فلمیںدراصل فنون ہی کی توسیع ہیں لیکن بد قسمتی سے ہندوستان میں فلم سے مراد محض تفریحی سنیما لیا جاتا ہے۔ جبکہ نیوز ریل، ڈاکیومنٹریز اور مختصر فلمیں وغیرہ بھی اسی زمرہ میں آتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار قومی ایوارڈ یافتہ فلم ساز جناب شیویندر سنگھ ڈونگرپور، قدیم فلموں کے محافظ و بانی فلم ہیریٹیج فائونڈیشن نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں انسٹرکشنل میڈیا سنٹر (آئی ایم سی) کے زیر اہتمام دوسرا مانو نالج سیریز انرچمنٹ لکچر میں کیا۔ آئی ایم سی کے پریویو تھیٹر میں منعقدہ لکچر کا عنوان ’’ہندوستانی فلمی ورثہ: متمول ، متنوع اور مخدوش‘‘ تھا۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے صدارت کی۔ جناب ڈونگرپور جو اردو کے ایک دیرینہ عاشق اور شہرہ آفاق فلم ساز گلزار کے معاون رہ چکے ہیں، ’’لیکن‘‘ اور ’’لباس‘‘ جیسی فلموں ٹیلی ویژن سیریل ’’غالب‘‘ کی تیاری میں اسسٹنٹ تھے۔ گلزار اسکرپٹ اردو میں لکھا کرتے تھے۔ دیگر معاونین کے مقابلے میں جناب ڈونگرپور کو سمجھنے میں دقت ہوتی تھی۔ تبھی گلزار نے انہیں اردو سیکھنے کی نصیحت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ فلمیں دراصل ماضی کی تاریخ اور ثقافت کا مشترکہ ورثہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ خاموش فلموں میں مناظر کے درمیان اس کے متعلق لکھے ہوئے ٹائٹلس آتے تھے جو انگریزی، اردو اور گجراتی میں ہوا کرتے۔ بعد میں جب قومی آرکائیوز میں انہیں جگہ دی گئی تو اس میں ہندی سلائیڈس کا بھی اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ 1913 سے جملہ 1700 خاموش فلمیںتیار کی گئیں جن میں سے صرف 5 تا 6 ہی مکمل بچی ہیں۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے صدارتی خطاب میں کہا کہ پرانی فلموں میں اردو کا کی خوشبو ہوا کرتی تھی جو آج آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہے۔ اردو فلموں میں بھی واپسی کرے گی۔ فلموں کے ذریعہ اردو کی اہمیت باقی رہے گی۔ اس موقع پر جناب ڈونگرپور کی فلم ’’سیلولائیڈ مین‘‘ کی نمائش کی گئی، جو فلم کے تحفظ کے لیے مشہور شخصیت پی کے نائر پر ڈاکیومنٹری ہے۔ ابتداء میں جناب رضوان احمد، ڈائرکٹر آئی ایم سی نے خیر مقدم کیا۔ جناب عمر اعظمی ، پروڈیوسر آئی ایم سی نے مہمان کا تعارف پیش کیا۔ جناب عامر بدر، پروڈیوسر نے شکریہ ادا کیا۔ جناب امتیاز عالم، ریسرچ آفیسر نے کارروائی چلائی۔