مندوبین کو اسرائیلی حکام نے روک دیا، ہندوستانی عوام فلسطینیوں کے ساتھ
حیدرآباد۔20 اپریل (سیاست نیوز) سی پی ایم کے رکن راجیہ سبھا محمد سلیم نے عرب اور اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کی تائید میں کھڑے ہوں اور امریکہ کی جانب سے یروشلم کو سفارتخانہ منتقل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنائیں۔ محمد سلیم نے گزشتہ ہفتہ فلسطین کے رملہ میں عالمی کانفرنس میں شرکت کی جس میں دنیا بھر سے فلسطینی کاز کے جہد کاروں کو مدعو کیا گیا تھا۔ حکومت فلسطین کی وزارت اوقاف نے اس کانفرنس کا اہتمام کیا۔ محمد سلیم ہندوستان کی نمائندہ شخصیتوں کے ساتھ وفد میں شامل تھے اور رملہ میں داخلے کے لیے انہیں اردن کی سرحد پر اسرائیلی حکام نے روک دیا۔ رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے ڈپلومیٹک پاسپورٹ کے حامل محمد سلیم کو داخلے کی اجازت دی گئی جبکہ دیگر افراد کو سرحد سے واپس کردیا گیا۔ محمد سلیم جو حیدرآباد میں سی پی ایم کی قومی کانگریس میں شرکت کررہے ہیں۔ سیاست سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے دورۂ فلسطین کی تفصیلات سے واقف کروایا۔ انہوں نے اسرائیل سے ہندوستان کے بڑھتے روابط پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ حکومت کو فلسطینی عوام سے زبانی ہمدردی کے بجائے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئے۔ محمد سلیم نے عرب لیگ پر ذمہ داری عائد کی کہ وہ فلسطینی کاز کی نہ صرف تائید کریں بلکہ مسجد اقصیٰ کی بازیابی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے بتایا کہ فلسطینی صدر محمود عباس اور فلسطین کے مفتی اعظم نے کانفرنس کی میزبانی کی تھی۔ ہندوستان کے علاوہ دنیا بھر میں فلسطینی کاز کی تائید کرنے والی شخصیتوں کو مدعو کیا گیا۔ اردن کی سرحد پر اسرائیل کی وزارت دفاع نے کانفرنس کے مندوبین کو یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ کانفرنس غیر قانونی ہے۔ تل ابیب میں ہندوستانی سفیر نے اسرائیلی حکام سے بات چیت کی لیکن صرف ڈپلومیٹک پاسپورٹس رکھنے والوں کو داخلہ کی اجازت دی گئی۔ ابتداء میں محمد سلیم پر پابندی عائد کی گئی کہ وہ تل ابیب جاسکتے ہیں لیکن مسجد اقصیٰ اور رملہ نہ جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ سوامی اگنی ویش، کیرالا کی مجلس السنی مرکز اور مجلس مشاورت دہلی کے ذمہ داروں کو داخلہ کی اجازت نہیں دی گئی لہٰذا وہ کانفرنس میں شرکت کے بغیر ہی واپس ہوگئے۔ دو روزہ کانفرنس کے بعد مسجد اقصیٰ میں مظاہرہ کیا گیا۔ محمد سلیم نے کہا کہ مشرقی یروشلم صدر مقام کے ساتھ علیحدہ مملکت فلسطین کی تشکیل کے ساتھ جائز ہے۔ فلسطینیوں کو اسرائیل کے تسلط سے آزاد کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یروشلم کو اسرائیل کے صدر مقام کی حیثیت سے تسلیم کرنے کا یکطرفہ فیصلہ قابل مذمت ہے اور فیصلے پر عمل آوری کی صورت میں جو بھی نتائج برآمد ہوں گے اس کی ذمہ داری امریکی صدر پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین یروشلم کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ عرب اور مسلمانوں کے تاریخی اور مذہبی اعتبار سے القدس اور یروشلم اہمیت کا حامل ہے۔ عرب حکمران آزاد فلسطین کے حصول میں ناکام ہوچکے ہیں۔ انہیں لاٹن امریکہ سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ محمد سلیم نے کہا کہ ہندوستان میں بھلے کوئی حکومت ہو عوام ہمیشہ فلسطین کے حق میں ہیں۔