معاشی ترقی کی شرح 17 فیصد سے تجاوز، سنٹر فار اکنامکس کے اجلاس سے کے ٹی آر کا خطاب
حیدرآباد۔8 اکٹوبر (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ٹی راما رائو نے کہا کہ تلنگانہ ریاست تیزی سے ترقی کی سمت گامزن ہے اور فلاحی اسکیمات پر گزشتہ چار برسوں میں 45 ہزار کروڑ روپئے خرچ کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کے 4 سالہ دور حکومت میں معاشی ترقی کی شرح 17 فیصد ہوچکی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ سنٹر فار اکنامکس اینڈ سوشل اسٹڈیز کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ ترقی مسائل اور موجودہ صورتحال پر بین الاقوامی سمینار منعقد کیا گیا تھا۔ سیس کے صدرنشین رادھا کرشنا نے اجلاس کی صدارت کی رادھا کرشنا کی تحریر کردہ کتاب کی رسم اجراء انجام دی جو ہندوستانی معیشت کے موضوع پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں عوام کی معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے حکومت نے فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کی ہے۔ زراعت کو منافع بخش صنعت میں تبدیل کرتے ہوئے کسانوں میں خوشحالی پیدا کی گئی۔ رعیتو بندھو اسکیم کے ذریعہ فصلوں کی امدادی قیمت سے متعلق اسکیم نے کسانوں کی معاشی ترقی میں اہم رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوقائم شدہ ریاست تلنگانہ نے ملک میں ترقی اور فلاحی اقدامات کے سلسلہ میں مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی بھلائی حقیقی معنوں میں ترقی ہے اور اسی جذبے کے تحت ٹی آر ایس حکومت نے اقدامات کیے۔ سماج میں ہر طبقے کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے فلاحی اسکیمات کا اہم رول رہا۔ وظائف، کلیان لکشمی، شادی مبارک، رعیتو بندھو اور رعیتو بیمہ اسکیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ملک کی کسی بھی ریاست میں اس طرح کی اسکیمات موجود نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تلنگانہ ریاست کئی ریاستوں کے لیے ایک مثال بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ۔ جاریہ مالیاتی سال فلاحی اسکیمات پر 45 ہزار 500 کروڑ روپئے خرچ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی معاشی ترقی کی شرح 17.17 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو انتہائی خوش آئند اور حوصلہ افزاء ہے۔ غربت کے خاتمہ کے لیے حکومت نے کئی اسکیمات کا آغاز کیا۔ 12 ہزار کروڑ کے خرچ سے رعیتو بندھو اسکیم پر کامیابی سے عمل کیا جارہا ہے۔ ملک کی کسی بھی ریاست میں کسانوں کی بھلائی کے سلسلہ میں اس طرح کی اسکیم موجود نہیں ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ ایک فلاحی ریاست کے طور پر ابھری ہے اور کے سی آر کی قیادت میں عوام سے جو وعدے کیے گئے تھے ان کی تکمیل کی گئی۔ متحدہ آندھراپردیش میں زرعی شعبے پر توجہ نہیں دی گئی تھی جس کے سبب کسان خودکشی پر مجبور تھے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے لیے خوش حالی کی صورتحال پیدا کرنا ٹی آر ایس کا کارنامہ ہے۔ انہوں نے برقی بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت کے اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ زرعی شعبہ کے لیے 24 گھنٹے بلا وقفہ اور مفت برقی سربراہی نے کسانوں میں خوشی کی لہر دوڑائی ہے۔ صنعتوں اور گھریلو صارفین کے لیے بھی بلا وقفہ برقی سربراہی کا سلسلہ جاری ہے۔