حیدرآباد 7 جون ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے مسلسل اجلاس منعقد کرنے میں مصروف ہیں اور ایک بھی دن مصروفیت ترک کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کل جمعہ کو دہلی روانگی سے قبل بھی دو گھنٹوں تک دفتری کام کاج دیکھا ۔ تاہم چونکہ ابھی دفتر چیف منسٹر میں ان کی مدد کرنے والے عہدیداروں کی کمی ہے اس لئے ہر گذرتے دن کے ساتھ فائیلس کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ مسٹر چندر شیکھر راؤ نے جن جن عہدیداروں کا تقرر عمل میں لایا ہے ان میں سے کسی نے بھی اپنی ذمہ داری نہیں سنبھالی ہے اور صرف ضلع کلکٹر میدک سمیتا سبھروال نے اڈیشنل سکریٹری کی حیثیت سے جمعہ کو ذمہ داری سنبھالی ہے ۔ وہ دفتر چیف منسٹر میں کام کرنے والی ریاست کی پہلی آئی اے ایس عہدیدار ہیں۔ مسٹر چندر شیکھر راؤ نے جن آئی اے ایس عہدیداروں کو دفتر چیف منسٹر کیلئے نامزد کیا ہے ان میں نرسنگ راؤ ‘ راج شیکھر ریڈی اور گوپال ریڈی شامل ہیں ۔ ابھی تک انہیں مرکزی حکومت نے منتقل نہیں کیا ہے ۔ چیف منسٹر کے دفتر میں فائیلس کا انبار لگتا جا رہا ہے کیونکہ این کرن کمار ریڈی کے دور حکومت میں بھی فائیلس کی منظوری کا عمل سست رفتار تھا ۔ اس کے بعد ریاست میں صدر راج نافذ کردیا گیا اور پھر انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کی وجہ سے بھی فائیلس کو منظوری نہیں مل سکی ہے ۔ حالانکہ چندر شیکھر راؤ نے 2 جون کو چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف لیا ہے انہیں فائیلس کو ترجیحی بنیادوں پر منتخب کرنے میں کوئی مدد گار دستیاب نہیں ہے ۔