سیول 18 مئی (سیاست ڈاٹ کام )وزیر اعظم نریندر مودی نے آج سابق حکومتوں کا ایک بار پھر مضحکہ اُڑاتے ہوئے کہا کہ سابق یو پی اے حکومت ’’مشرق کی طرف دیکھو‘‘ پالیسی پر عمل پیرا تھی۔ ہندوستان کے پاس اس کا اپنا بہت کچھ ہے اور مشرق کی طرف دیکھنے کا اس کے پاس وقت کہاں ہیں ۔ قبل ازیں یہ ’’مشرق کی طرف دیکھو پالیسی‘‘ تھی۔ یہ حکومت کی خارجہ پالیسی کا بنیادی حصہ تھا۔ مودی نے کہا کہ ہندوستانی برادری نے ان کا ایک استقبالیہ ترتیب دیا تھا جو کیونگ یونیورسٹی سیول میں منعقد کیا گیا تھا جو جنوبی کوریا کا دارالحکومت ہے ۔ انہوں نے ہندوستانی برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرق کی طرف دیکھو کا نعرہ سب سے پہلے 1990 کی دہائی میں نرسمہا راو حکومت نے ایجاد کیا تھا اور اس پر اس کے بعد کی حکومتوں نے کامیابی سے عمل کیا ۔ مودی نے ماہرین معاشیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پانچ رکنی بریکس گروپنگ میں ہندوستان جدوجہد کررہا تھا لیکن گذشتہ سال (اُن کی حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد) حالات تبدیل ہوگئے ۔ گذشتہ ایک سال سے دنیا اب یہ کہہ رہی ہے کہ میں (ہندوستان) بریکس کا ایک اہم حصہ ہے اور یہ گروپنگ میرے (ہندوستان) کے بغیر بریکس کا تصور بھی نہیں کرسکتی ۔ مودی نے جو آج منگولیہ سے اپنے تین ملکی دورے کے آخری مرحلے میںیہاں پہنچے ہیں کہا کہ ہندوستانی برادری نے چین میں بھی اُن کا اسی طرح استقبالیہ ترتیب دیا تھا جو چین کے معاشی مرکز شنگھائی میں گذشتہ ہفتہ ترتیب دیا گیا تھا۔ بار بار غیر ملکی دوروں پر اپوزیشن کی تنقید کے بارے میں اپنی خاموشی توڑتے ہوئے انہوں نے وطن میں اُن پر تنقید کے بارے میں کہا کہ وہ ’’انتھک‘‘کام کرنے کیلئے تنقید کا نشانہ بن گئے ہیں اور کہا کہ کیا یہ ’’جرم ‘‘ ہے اور اگر جرم ہیں تو وہ ایسا کرتے رہیں گے۔ مودی جب سابق حکومتوں پر اپنے گذشتہ دورہ جرمنی‘فرانس اور کینیڈا کے موقع پر تنقید کی وجہ سے مذمت کا نشانہ بن گئے تھے ‘کہا کہ اگر آپ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ مودی اتنے ممالک کے دورے کیوں کررہا ہے تو اگر آپ کام کرتے ہوں تو تنقید معمول کے مطابق ہے اگر آپ سوتے رتہے ہیں تو تنقید حسب معمول ہے لیکن یہ میری بدقسمتی ہے کہ مجھ پر زیادہ کام کرنے کی وجہ سے تنقید کی جارہی ہے ۔ آج اپنی تقریر کے دوران مودی نے اپنی ’’میک ان انڈیا ‘‘پہل کیلئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان ایک پیداواری مرکز بن جائے اور دنیا کی بہترین ٹکنالوجی استعمال کریں۔انہوں نے بیرون ملک سکونت پذیر ہندوستانیوں کو دعوت دی کہ وہ اپنے ملک آئیں اور وہاں سرمایہ کاری کریں ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے بارے میں گذشتہ ایک سال سے رجحان اور تصور تبدیل ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی بہترین ٹکنالوجی ہندوستان آنا چاہئے۔