غیرقانونی و غیرشرعی کنٹراکٹ میاریجس میں ملوث قاضیوں کیخلاف تحقیقات

وقف بورڈ کا دارالقضات میں قاضیوں کی موجودگی سے انکار، ایم جے اکبر کا حکومت سے نمائندگی کا اعلان
حیدرآباد۔/7فبروری، ( سیاست نیوز) شہر میں غیر قانونی اور غیر شرعی طور پر کنٹراکٹ میریج میں مبینہ طور پر ملوث قاضیوں کے خلاف حکومت تحقیقات اور کارروائی کی تیاری کررہی ہے۔ ساؤتھ زون پولیس نے کنٹراکٹ میریجس کی انجام دہی میں ملوث 3مبینہ قاضیوں کو گرفتار کرتے ہوئے ان کی مسلسل غیر قانونی سرگرمیوں پر مشتبہ شیٹ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان قاضیوں کا تعلق سکندرآباد، لنگم پلی اور قطب اللہ پور کے علاقوں سے ہے۔ وقف بورڈ کا دارالقضات مذکورہ ناموں کے قاضیوں کی موجودگی سے صاف انکار کررہا ہے جبکہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جناب جلال الدین اکبر نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کیلئے وہ اعلیٰ عہدیداروں سے نمائندگی کریں گے۔ قاضیوں کے تقرر اور ان کی برخاستگی کا اختیار راست طور پر حکومت کے تحت ہے اور سکریٹری اقلیتی بہبود کو قاضیوں کی ان غیر شرعی سرگرمیوں کے خلاف فوری حرکت میں آنا چاہیئے۔ اس طرح کی سرگرمیوں کے بارے میں جب ڈائرکٹر اقلیتی بہبود سے ربط پیدا کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ قاضیوں کے خلاف کارروائی کا اختیار وقف بورڈ کے ہاتھ میں نہیں بلکہ حکومت کے اختیار میں ہے۔ وقف بورڈ کے تحت صرف دارالقضات ہے جہاں سے میریج، طلاق اور دیگر سرٹیفکیٹ جاری کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے جن قاضیوں کی نشاندہی کی گئی ان کے خلاف کارروائی کیلئے وہ سکریٹری اقلیتی بہبود کو توجہ دلائیں گے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی سرگرمیوں کو روکا جاسکے۔ اسی دوران ناظر القضات قاضی اکرام اللہ نے کہا کہ پولیس کی جانب سے جن افراد کو قاضی قرار دیا جارہا ہے وہ وقف بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق قاضی نہیں ہیں۔ وقف بورڈ کے ریکارڈ کے تحت حیدرآباد و سکندرآباد میں 14قاضی ہیں۔ انہوں نے سابق میں بعض نائب قاضیوں اور قاری النکاح افراد کی جانب سے اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا اور کہا کہ حکومت نے اس طرح کی سرگرمیوں پر ایک قاضی کو برطرف کردیا جس کا معاملہ عدالت میں زیر دوران ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قاضی کو نائبین اور قاری النکاح کے تقرر کا اختیار ہے اور اس میں تعداد کی کوئی حد نہیں، اس کا ریکارڈ وقف بورڈ کے پاس نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ کنٹراکٹ میریج دراصل غیر شرعی ہے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی وہ تائید کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نچلی سطح پر اس طرح کی سرگرمیوں کی امید ہے تاہم دارالقضات کی جانب سے بہت جلد شہر کے تمام قاضیوں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے انہیں نائب قاضیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ہدایت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے تمام اہم قاضیوں کے نائبین کی فہرست طلب کرلی گئی جس میں وہ نام موجود نہیں ہیں جنہیں پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ قاضی اکرام اللہ نے کہا کہ بعض افراد کی سرگرمیوں سے قضأت کے نظام کی بدنامی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قاضیوں کی تنظیموں کے اجلاس میں حکمت عملی طئے کی جائے گی۔ ضرورت پڑنے پر پولیس سے ان افراد کی تفصیلات حاصل کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ قاضی حضرات اپنے نائبین کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں تو اس طرح کے واقعات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دارالقضات اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کرے گا کہ گرفتار کئے گئے افراد کس قاضی سے نکاح نامہ حاصل کرتے ہوئے جاری کررہے ہیں۔ پرانے شہر میں گزشتہ کئی برسوں سے کنٹراکٹ میریج کا ریاکٹ کام کررہا ہے اور اسے بعض قاضیوں کی سرپرستی حاصل ہے۔