ریاض ۔ یکم ؍ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) غلاف کعبہ المشرفہ کی تیاری کے حوالے سے خبریں ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ اسی ضمن میں ’’الکسوہ‘‘ (غلاف کعبہ) کے عظیم اور بابرکت مقصد کے لیے استعمال ہونے والے کپڑے کے بارے میں ایک رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق غلاف کعبہ کا کپڑا اٹلی سے منگایا جاتا ہے۔ یہ کپڑا خالص سیاہ ریشم سے تیار کیا جاتا ہے جسے ہرسال سعودی حکومت 670 کلو گرام کپڑاخانہ کعبہ کے غلاف کے لیے منگواتی ہے۔ غلاف کی تیاری کے لیے نہ صرف مہنگا ترین ریشمی کپڑا استعمال ہوتا ہے بلکہ اس میں 120 کلو گرام سونا اور 100 کلو گرام خالص چاندی کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے بعد اللہ کے گھر کے لیے تیار ہونے والے لباس کی قیمت دنیا کے کسی بھی مہنگے ترین کپڑے سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ غلافہ کعبہ کی تیاری کے لیے مختص کارخانے کے چیئرمین ڈاکٹر محمد باجود نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خانہ کعبہ کی زیارت کا شرف حاصل کرنے والے ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے گھر کے لباس کی بھی خصوصی توجہ اور عقیدت کے ساتھ زیارت کرے۔ انہوں نے بتایا کہ غلاف کعبہ کے لیے کارخارنے کا قیام ماہ محرم 1346 ھجری میں شاہ عبدالعزیز رحمتہ اللہ کے حکم سے قائم کیا گیا۔ یوں پہلی بار باضابطہ طورپر غلاف کعبہ تیاری ایک ادارے کی نگرانی میں ہونا شروع ہوئی۔ اس طرح غلاف کعبہ کی تیاری کا جو سلسلہ قبل از اسلام شروع ہوا تھا وہ آج بھی جاری و ساری ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ غلاف کعبہ کی تیاری میں کتنا وقت درکار ہوتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ایک غلاف 8 ماہ میں مکمل ہوتا ہے۔ اس کا آغاز کپڑے کی سلائی سے ہوتا ہے اور اختتام خانہ کعبہ پر اسے لہرانے کا ہوتا ہے۔ چونکہ غلاف کی تبدیلی کے لیے بھی تاریخ مقرر ہے اور نو ذی الحج کو قریبا 13 گھنٹے کی کوشش کے بعد غلاف کو تبدیل کرتے ہیں۔ غلاف کی تیاری اور سلائی میں ٹیلروں، ان کے معاونین اور دیگر کارکنوں سمیت 100 افراد کام کرتے ہیں۔ غلاف کعبہ کے کئی حصے ہوتے ہیں۔ ایک خصوصی پٹی کی 47 میٹر ہوتی ہے جس کی لمبائی 95 سینٹی میٹر ہے۔ غلاف کعبہ کے کپڑے کی قیمت سالانہ 22 سے 25 ملین ریال تک ہوتی ہے۔