شہر میں بلا سودی قرض فراہم کرنے والے اداروں کی ضرورت ، ملت کی معاشی ابتری کو دور کرنے میں معاون
حیدرآباد ۔ 16 دسمبر۔ ( سیاست نیوز) سود خوروں کے مظالم سے غریب عوام کو نجات دلانے کیلئے شہر میں متحرک بیت المال کی ضرورت شدت سے محسوس کی جانے لگی ہے ۔ شہر کے نوجوانوں میں چھتہ بازار میں ہوئے جاوید کے قتل کے بعد سودخوروں کے خلاف غم و غصہ کی لہر پائی جاتی ہے لیکن نوجوان اس مسئلے کے سدباب کے متعلق بھی فکرمند نظر آرہے ہیں ۔ مختلف گروپس میں ہونے والے تبادلۂ خیال سے یہ نتیجہ اخذ کیا جارہا ہے کہ نوجوان شہر میں بلاسودی قرض فراہم کرنے والے اداروں کی ضرورت کو محسوس کررہے ہیں اور چند ایک صحیح آگے بڑھتے ہوئے بلاسودی قرض کی فراہمی کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ نوجوانوں کے گروپس جوکہ ملت کے معاشی و تعلیمی مستقبل کے متعلق فکرمند ہیں وہ گروپس سودخوروں کے چنگل سے غریب عوام کو بچانے کے ساتھ ساتھ اُن کے تجارتی مقاصد کی تکمیل کیلئے بلاسودی قرض کی فراہمی کے منصوبے تیار کرنے میں مصروف نظر آرہے ہیں۔ ضلع ورنگل میں خدمات انجام دے رہے بلاسودی قرض کی فراہمی والے ایک ادارے کی مثال اکثر دی جانے لگی ہے اور یہ کہا جانے لگا ہے کہ اس طرح کے اداروں کے ذریعہ ملت کی معاشی آسودگی کو دور کیا جاسکتا ہے ۔ سودخوروں سے بھاری سود پر قرضہ جات حاصل کرنے والوں میں چھوٹے بیوپاریوں کی اکثریت ہے جن کی ضرورت معمولی رقومات سے پوری ہوجاتی ہے لیکن وہ ان ضرورتوں کی تکمیل کیلئے درکار رقم سے دوگنا اور بسا اوقات کئی گنا زیادہ رقومات ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ چھوٹے بیوپاری جوکہ فٹ پاتھ یا ٹھیلے بنڈی پر کاروبار کرتے ہیں انھیں بینک کی جانب سے جاری کئے جانے والے قرضہ جات کے حصول کے لئے رہنمائی حاصل نہیں ہے اور نہ ہی وہ بینک کے شرائط کی تکمیل کو یقینی بناسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں صرف ایک راہ نظر آتی ہے کہ بلاسودی قرض کی فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے ایسے ادارے قائم کئے جائیں جو کہ حقیقی ضرورتمندوں بالخصوص تجارتی مقاصد کے لئے قرض حاصل کرنے والوں کو قرض جاری کرنے کے موقف میں ہوں ۔ ’واٹس اپ ‘ کے مختلف گروپس میں ہونے والے تبادلۂ خیال کے دوران نوجوان شہر میں متحرک بیت المال کی تجاویز پر زور دے رہے ہیں تاکہ بیت المال کے ذریعہ ضرورت مندوں کو قرض کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے ۔ نوجوانوں کی گفتگو میں اس بات پر بھی غور کیا جارہا ہے کہ بلا سودی قرضہ جات کی فراہمی کی صورت میں قرض نادہندگان کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کو کس طرح روکا جائے اور کس طرح سرکاری اسکیمات کے ذریعہ چھوٹے کاروباریوں کو فائدہ پہنچانے کے اقدامات کئے جائیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے چھوٹے کاروباریوں و غریب افراد کی معاشی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے چلائی جانے والی اسکیمات کو چھوٹے بیوپاریوں کے درمیان روشناس کرواتے ہوئے انھیں اسکیم سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے شعور بیداری مہم چلانے کے متعلق بھی غور کیا جارہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے اگر ضلع انتظامیہ ، پولیس کے علاوہ محکمہ اقلیتی بہبود کو اس بات کی ہدایت جاری کی جائے کہ طویل عرصہ سے ایک ہی مقام پر چھوٹے کاروباری کی تجارت کی ضمانت و ثبوت حاصل ہونے کی صورت میں اُنھیں قرض فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں تو حالات میں کافی بہتری آسکتی ہے ۔ چونکہ فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والوں کے علاوہ ٹھیلہ بنڈی رانوں کو قرضہ جات کی منظوری کی کوئی سبیل نہیں ہوتی ۔ اگر پولیس ، ضلع انتظامیہ اور محکمہ اقلیتی بہبود سود خوروں کے مسئلہ کو مکمل طورپر ختم کرنے کیلئے اقدامات کا آغاز کرتے ہیں تو ایسی صورت میں غریب بیوپاریوں کو تجارت کیلئے بھاری رقم حاصل ہوسکتی ہے اور اس رقم کی بینک کو وقت پر ادائیگی کے ذریعہ وہ بینک کے ایک اچھے صارف کی حیثیت سے اپنی شناخت بناتے ہوئے مزید اضافی قرض حاصل کرسکتے ہیں۔ بیت المال کے قیام کے ذریعہ قرضہ جات کی اجرائی و وصولی ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے اسی لئے اس طرح کے اقدامات سے پہلے حکومت سے اپیل کی جانی چاہئے یا پھر محلہ واری اساس پر بیت المال کے قیام کے ذریعہ مستحق غریب بیوپاریوں کی امداد کی جاسکتی ہے ۔ اس طرح سے محلہ والے قرض حاصل کرنے والوں کو واپس ادائیگی کے لئے بھی تیار کرسکتے ہیں۔ بصورت دیگر قرض نادہندگان کی تعداد میں ہونے والا اضافہ ایک مرتبہ پھر سودی کاروبار میں ملوث افراد کی حوصلہ افزائی کا سبب بن سکتا ہے ۔