اقلیتوںکو ترقی کے ثمرات میں مساوی حصہ داری‘ فرقہ وارانہ تشدد کو قطعی برداشت نہیں کیا جائیگا ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر جمہوریہ کا خطاب
٭ سرکاری اسکیمات کے فوائد نہ ملنے سے اقلیتیں ہنوز غربت کا شکار
٭ مدرسوں کو عصری بنانے کا قومی پروگرام شروع کرنے کا اعلان
٭ ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی
٭ دہشت گردی و تخریب کاری اور فسادات سے نمٹنے قومی منصوبہ
٭ تمام ریاستوں کی پولیس فورس کو عصری بنانے مدد کی جائے گی
نئی دہلی 9 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے کہا کہ مرکز میں قائم نئی حکومت غذائی اجناس کی قیمتوں اور افراط زر پر قابو پانے کو اولین ترجیح دی گی اس کے علاوہ ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی ۔ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے عام انتخابات کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ غذائی افراط زر پر قابو پانا ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ زرعی اور زراعت سے متعلق اشیا کی سپلائی کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائیگی ۔ ان کی حکومت ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری روکنے کیلئے بھی موثر اقدامات کریگی ۔ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کی پالیسیوں کی تفصیل پیش کرتے ہوئے پرنب مکرجی نے کہا کہ عوامی نظام تقسیم میں اصلاحات لانے کی کوششیں کی جائیں گی اور مختلف ریاستوں میں رائج بہترین طریقہ کو اس میں شامل کیا جائیگا ۔ جاریہ سال اوسط سے کم بارش ہونے کے اندیشوں کے تعلق سے صدر جمہوریہ نے کہا کہ ان کی حکومت جاریہ سال معمول سے کم بارش کی اطلاعات پر چوکس ہے اور ایک ہنگامی منصوبہ بھی تیار کیا جا رہا ہے ۔ ماہ اپریل میں ریٹیل افراط زر کی شرح 8.59 فیصد تک پہونچ گئی تھی اور یہ سب ترکاریوں ‘ میوہ جات اور دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث ہوا ہے ۔ پرنب مکرجی نے کہا کہ افراط زر کی شرح ہنوز ناقابل قبول سطح تک پہونچی ہوئی ہے ۔ ہم مل کر اس بات کی کوشش کرینگے کہ ملک کی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے ‘ افراط زر پر قابو پایا جائے اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو بہتر بنایا جائے ۔ ہفتے کو کابینی سکریٹری کی قیادت میں اعلی بیوروکریٹس نے ملک میں قیمتوں کی صورتحال کا جائزہ لیا تھا اور تاخیر سے آنے والے مانسون کے نتیجہ میں ہونے والے اثرات پر غور کیا گیا تھا ۔ نئی حکومت نے افراط زر کی شرح پر قابو پانے کو اپنا اولین ایجنڈہ قرار دیا ہے ۔ علاوہ ازیں نریندر مودی حکومت تمام اقلیتوں کو ملک کی ترقی کی میں مساوی حصہ دار بنانے کی کوشش کریگی ۔ حکومت نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سرکاری اسکیمات کے فوائد ان تک نہیں پہونچے تھے جن کے نتیجہ میں وہ آزادی کے کئی دہوں کے بعد بھی غربت کا شکار ہیں۔ حکومت نے خاص طور پر وعدہ کیا ہے کہ وہ تمام اقلیتوں میں عصری اور فنی تعلیم کو فروغ دینے کے اقدامات کریگی اور قومی مدرسہ ماڈرنائزیشن پروگرام شروع کیا جائیگا ۔ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ آزادی کے کئی دہوں کے بعد بھی اقلیتی برادری کے طبقات مسلسل غربت کا شکار ہیں کیونکہ سرکاری اسکیمات کے فوائد ان تک نہیں پہونچے تھے ۔ ان کی حکومت اس بات کی پابند ہے کہ تمام اقلیتوں کو ہندوستان کی ترقی میں مساوی شراکت داری دی جائیگی ۔ پرنب مکرجی نے کہا کہ ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ او بی سیز اور سماج کے پسماندہ طبقات کے عوام کی بھلائی کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت تعلیم ‘ صحت اور معیار زندگی میں مساوی مواقع کا ایک نظام تیار کرنے کے اقدامات کریگی ۔ ان کی حکومت درج فہرست ذاتوں اور قبائل کو ابھرتے ہوئے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کریگی ۔ انہوں نے کہا کہ درج فہرست ذاتوں کیلئے ان کی حکومت ’’ ون بندھو کلیان یوجنا ‘‘ شروع کریگی ۔ قبائلی جھونپڑیوں میں برقی سربراہ کی جائیگی اور تمام موسم میں کارکرد سڑکیں بھی ترجیحی اساس پر تعمیر کی جائیں گی ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ سماج کی نگہداشت کے این ڈی اے حکومت کے ویژن میں خاص طور پر صلاحیتوں کے حامل افراد کی بازآبادکاری کو شامل کیا گیا ہے ۔ ان افراد کو معزز زندگی فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے اور اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں اپنا حصہ ادا کریں۔ ان کی خصوصی ضروریات کی نشاندہی کرنے اور انہیں ادارہ جاتی نگہداشت فراہم کرنے اقدامات کئے جائیں گے ۔ صدر جمہوریہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نریندر مودی حکومت فرقہ وارانہ تشدد کو قطعی برداشت نہیں کریگی اور اس لعنت کو ختم کرنے کیلئے ریاستوں سے مشاورت کے ذریعہ ایک قومی پالیسی تیار کی جائیگی ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ نئی حکومت داخلی سلامتی کے معاملہ میں بھی سخت چوکسی برتے گی ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ‘ تخریب کاری ‘ فسادات اور جرائم کو قطعی برداشت نہیں کیا جائیگا ۔ ایک قومی منصوبہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعہ تیار کیا جائیگا تاکہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پر قابو پایا جاسکے اور دائیں بازو کی تخریب کاری سے پیدا ہونے والے چیلنجس سے نمٹا جاسکے ۔ واضح رہے کہ بی جے پی نے یو پی اے حکومت کی جانب سے سخت ترین انسداد فرقہ وارانہ تشدد بل کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ قانون سازی آزاد ہندوستان کی تاریخ میں سب سے غلط ہے ۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ اس قانون سازی کے نتیجہ میں وفاقی ڈھانچہ متاثر ہوسکتا ہے ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ پولیس انفرا اسٹرکچر کو عصری بنانے اور دہشت گردی کی عصری شکل سے نمٹنے اور نارکو ۔ دہشت گردی و سائبر دھمکیوں سے نمٹنے میں تمام ریاستوں کی مدد کی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سکیوریٹی فورسیس کو عصری ٹکنالوجی سے لیس کرنے اور ان کے حالات کو بہتر بنانے اقدامات کریگی ۔ صدر جمہوریہ نے واضح کیا کہ حکومت ملک بھر میں انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے پر بھی توجہ مرکوز کریگی اور ایسے اقدامات کریگی جن کے نتیجہ میں عوام کو راحت پہونچے ۔ ( متعلقہ خبر صفحہ 3 پر بھی )