غار سے بچائے گئے بچے اپنے مکانات میں سکون سے سوئے

چھیانگ رائی، 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) تھائی لینڈ کے غار سے بچائے گئے تمام بچوںکو چہارشنبہ کو ہاسپٹل سے چھٹی دے دی گئی اور آج صبح ہفتوں بعد یہ اپنے گھروں میں پہلی بار نیند سے جاگے ۔ ان میں سے کئی بچوں نے علی الصباح مذہبی رسومات میں حصہ لیا ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ 11 سے 16 سال کی عمر کے ان 12 بچوں اور 25 سالہ ان کے کوچ کو چہارشنبہ کو شمالی چھیانگ رائی صوبے کے ایک ہاسپٹل سے چھٹی دے دی گئی اور اس کے بعد یہ سبھی گھر جاکر سکون کی نیند سوئے ۔ان بچوں کو قومی ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام میں بھی دکھایا گیا ہے جس میں وہ ہنستے اور کھلکھلاتے نظر آ رہے تھے اور ان بچوں نے اپنے ان المنا ک اور خوفناک لمحات کا بھی ذکر کیا جب انہیں زندہ رہنے کے لئے غار کے اندر اپنی زندگی بچانے کے لئے جدوجہد کرنی پڑی تھی۔شمالی تھائی لینڈ کے غاروں میں پھنسے 12 بچوں نے بحفاظت باہر نکلنے کے بعد پہلی بار میڈیا سے بات چیت میں کہا ہے کہ وہ ‘لمحات معجزانہ’ تھے جب غوطہ خوروں نے ان کا پتہ لگایا۔ادلسام کی عمر 14 برس ہے وہ انھیں بچوں میں شامل تھے ۔انگریزی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے صحافیوں سے کہا کہ جب برطانوی غوطہ خوروں نے انھیں بچایا تو وہ فقط انھیں ہیلو ہی کہہ سکے ۔یہ لڑکے اپنے کوچ کے ہمراہ تھیم لوانگ کے غاروں میں دو ہفتے سے زائد عرصے تک محصور رہے ۔