عیسائیوں کا دہلی میں احتجاجی مظاہرہ

گرجا گھروں پر حملے کی تحقیقات ، راج ناتھ سنگھ کا تیقن
نئی دہلی۔ 5 فروری (سیاست ڈاٹ کام) گرجا گھروں پر حالیہ حملوں کے واقعات کے پس منظر میں عیسائیوں نے سڑکوں پر نکل آنے کا انتباہ دیا۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ان کے مذہبی مقامات پر سکیورٹی بڑھانے کا وعدہ کیا اور کہا کہ مذہب کی بنیاد پر کسی طرح کا امتیاز نہیں برتا جائے گا۔ انہوں نے عیسائی رہنماؤں کے ایک وفد کو تیقن دیا کہ گرجا گھروں پر حملے کے حالیہ واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائے جائیں گی۔ اس وفد نے آج وزیر داخلہ سے ملاقات کی اور کہا کہ گزشتہ دو تا ڈھائی ماہ کے دوران پانچ گرجا گھروں پر حملے کئے گئے اور مقدس آثار کو تباہ کردیا گیا، لیکن پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ عیسائی برادری کے جان دیال نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ نے اُن کے مطالبہ پر پولیس کو ہدایت دی کہ قانون تعزیرات ہند میں بعض دفعات شامل کی جائیں جیسے فسادات برپا کرنے کے مقصد سے اشتعال انگیزی‘ مذہبی جذبات مجروح کرنا وغیرہ۔اس دوران عیسائی فرقے کے ارکان نے اسمبلی انتخابات کے موقع پر آج شہر میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے حکومت پر بے عملی کا الزام عائد کیا اور یہ جاننا چاہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اس مسئلہ پر خاموش کیوں ہیں۔ پولیس نے تقریباً 200 احتجاجیوں کو حراست میں لے لیا۔ کئی عیسائی مبلغین اور معمر افراد بشمول خواتین کو پولیس زبردستی بسوں میں لے گئی۔

دہلی میں چرچوں پر حملوں کیخلاف احتجاج
نئی دہلی 5 فروری (سیاست ڈاٹ کام) عیسائی برادری کے کئی افراد نے آج یہاں احتجاج منظم کرتے ہوئے اُن عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جو دہلی میں گرجا گھروں پر حالیہ سلسلہ وار ’’حملوں‘‘ میں ملوث ہیں۔ وسطی دہلی کے سیکرڈ ہارٹ کیتھڈرل کے باہر احتجاجوں کے دوران چند لوگوں کو پولیس نے امتناعی احکام کی مبینہ خلاف ورزی پر حراست میں لے لیا۔ جوائنٹ کمشنر آف پولیس مکیش مینا نے یہاں میڈیا کو بتایا کہ ہم نے بعض احتجاجیوں کو پکڑا ہے اور اُنھیں پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن سے رجوع کردیا گیا۔ اُن کے پاس اِس چرچ کے باہر احتجاج کا اجازت نامہ نہیں تھا اور ہم سڑکوں پر احتجاج کی اجازت نہیں دے سکتے۔