کانگریس اور تلگو دیشم حکومت کے وعدے پر عمل آوری ندارد
حیدرآباد ۔ 15 ۔ مئی : ( نمائندہ خصوصی ) : تاریخی شہر حیدرآباد تہذیب و تمدن کے لیے سارے عالم میں مشہور ہے اور ہمارے شہر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ہندوستان کے تمام تاریخی شہروں میں سب سے زیادہ فن تعمیر کے شاہکار یہیں ہیں اور اس شہر کی عیدگاہ میرعالم کو ایک منفرد شناخت حاصل ہے ۔ اس عیدگاہ کے باب الداخلہ پر ایک 40 فیٹ بلند اور 80 فیٹ وسیع قرآن حکیم کی ریحال کی شکل میں کمان کا وعدہ تلگو دیشم اور کانگریس کے دور حکومت میں کیا جاتا رہا ہے ۔ ہر سال رمضان کی آمد سے قبل یہاں حکومتی وزیر اقلیتی بہبود اپنے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ لینے کے لیے پہنچ جاتے ہیں اور جائزہ حاصل کرنے کے بعد عیدگاہ کی کھلی اراضی پر ایک پریس کانفرنس منعقد ہوتی ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ اس عیدگاہ کے باب الداخلہ پر ایک عالیشان کمان تعمیر کی جائے گی ۔ ہر سال یہی وعدہ ہوتا ہے کہ آئندہ برس باب الداخلہ پر ایک عالیشان کمان تعمیر کی جائے گی ۔ بدلتی حکومتوں نے اس وعدے کی روایت کو برقرار رکھا ہے اور ان کے یہ وعدے کسی بنئے کی دکان پر لگی تختی جس پر جو تحریر ہوتی ہے کہ ’’ آج نقد کل ادھار ‘‘ کے مترادف ہے اور لیڈروں کے وعدے اسی تحریر کی دوسری شکل دکھائی دیتے ہیں کہ وعدہ اس برس اور تعمیر آئندہ برس اور وہ آئندہ برس ، برسوں گذر جانے کے بعد بھی نہیں آیا ہے ۔ اب جب کہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل ہوچکی ہے اور ٹی آر ایس حکومت کے لیے یہ پہلا رمضان ہے لہذا یہ امید بڑھ چکی ہے کیوں کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی جو کہ نظام سرکار کے کارناموں کی ستائش کرتے اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئے جانے والے اقدامات کا جا بجا تذکرہ کرتے ہیں لہذا اب انہیں رمضان سے قبل صرف وعدہ نہیں بلکہ کمان کی تعمیر کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے کیوں کہ گذشتہ برسر وزیر اقلیتی بہبود احمد اللہ نے میڈیا نمائندوں سے پریس کانفرنس کے موقع پر اشاروں میں یہ کہا تھا کہ برائے مہربانی کمان کے متعلق سوالات نہ کریں ۔ میر عالم عیدگاہ کی صرف پلیٹ فارم کی اراضی 11 ہزار گز ہے ۔ میر عالم عیدگاہ کے علاوہ حیدرآباد کی سب سے قدیم گولکنڈہ عیدگاہ پر بھی کمان کی تعمیر کے وعدے ہوئے ہیں لیکن آج تک یہ وعدہ بھی وفا نہ ہوسکا ۔ تلگو دیشم اور کانگریس حکومتوں میں صرف وعدے ہوتے رہے ہیں لیکن اگر ٹی آر ایس حکومت وعدے کے برعکس تعمیری کاموں کا آغاز کردیتی ہے تو پھر یہ کمان رمضان تک تیار ہوسکتی ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹی آر ایس حکومت جو خود کو مسلمانوں کی دوست حکومت کہتی ہے وہ کمان کی تعمیر کا آغاز کب کرتی ہے ۔۔