عہدوں سے محروم ٹی آر ایس قائدین کو مایوس نہ ہونے کا مشورہ

نامزد سرکاری عہدوں پر عنقریب تقررات ، 50 تا 70کارپوریشنوں کی جائیدادیں خالی
حیدرآباد۔/3فبروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر و صدر ٹی آر ایس کے چندر شیکھر راؤ نے پارٹی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ سرکاری عہدوں کے حصول کے سلسلہ میں عجلت پسندی سے کام نہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی زندگی میں عجلت پسندی میں کئے گئے فیصلے اکثر نقصاندہ ثابت ہوتے ہیں۔ چیف منسٹر نے اس بات کا اشارہ دیا کہ بہت جلد نامزد سرکاری عہدوں پر تقررات کا آغاز کردیا جائے گا اور تمام قائدین اور کارکنوں سے انصاف ہوگا۔ پارٹی کے توسیعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے ایک سے زائد مرتبہ پارٹی قائدین کو عہدوں کے حصول کی دوڑ سے دور رہنے کی نصیحت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک کو عہدہ ملنا مشکل ہے اور ٹی آر ایس نے طویل جدوجہد کے بعد نہ صرف ریاست حاصل کی بلکہ تحریک کو سیاسی پارٹی میں تبدیل کیا۔ انہوں نے کہا کہ عہدوں کے حصول میں تاخیر کی صورت میں قائدین اور کارکنوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ عہدوں کے سلسلہ میں پارٹی کیلئے بھی بعض دشواریاں ہوتی ہیں۔ سماجی مساوات اور دیگر اُمور کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب درخت لگ جائے تو پھل ضرور آئے گا۔ تاہم بعض درختوں کو پھل لگنے میں دیر ہوسکتی ہے اس سے کارکنوں کو مایوس نہیں ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایسے حلقوں میں جہاں پارٹی کے عوامی نمائندے نہیں ہیں متحدہ طور پر پارٹی کے استحکام کیلئے کام کریں۔ آنے والے دنوں میں تلنگانہ میں اسمبلی حلقوں کی تعداد میں مزید 34حلقوں کا اضافہ ہوگا اسوقت قائدین کیلئے مواقع پیدا ہوں گے۔ چیف منسٹر نے دو ایسے قائدین کی مثال پیش کی جنہوں نے کبھی بھی عہدہ کی توقع نہیں کی لیکن آج اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ ان قائدین نے پارٹی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے خاموشی اختیار کی جس کا پھل انہیں ملا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کے علاوہ قانون سازکونسل کی نشستوں پر ٹی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ سینکڑوں مارکٹ کمیٹیوں پر تقررات باقی ہیں۔ 50تا70کارپوریشنوں کے صدور نشین اور ڈائرکٹرس کی نامزدگی باقی ہے۔ اس کے علاوہ 100سے زائد اہم مندروں سے متعلق کمیٹیوں میں تقررات باقی ہیں۔ کے سی آر نے اشارہ دیا کہ بہت جلد کارپوریشنوں اور مارکٹ کمیٹیوں کے تقررات کا عمل شروع کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے دو گھنٹے سے زائد طویل اپنی تقریر میں تقریباً چار مرتبہ پارٹی قائدین اور کارکنوں کو عہدہ کیلئے عجلت پسندی سے کام نہ لینے کا مشورہ دیا اور اتحاد کی تلقین کی۔ انہوں نے بتایا کہ اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کا کام بہت جلد شروع ہوگا۔ جن حلقوں میں پارٹی کے ایم ایل اے نہیں ہیں وہاں انچارج کے عہدہ کیلئے قائدین کو ٹکراؤ نہیں کرنا چاہیئے۔ پارٹی کے توسیعی اجلاس میں چیف منسٹر کی جانب سے عہدوں کی دوڑ سے متعلق مشورے سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ حکومت کی تشکیل کے سات ماہ گزرنے کے باوجود عہدوں سے محرومی کے سبب کارکنوں اور قائدین میں مایوسی پائی جاتی ہے۔