شہدائے تلنگانہ کے افراد خاندان کو امداد ، مقدمات سے دستبرداری ، گورنر کے خطبہ تحریک تشکر سے چیف منسٹر کے سی آر کا خطاب
حیدرآباد۔/13جون، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے عوامی بھلائی اور فلاحی اسکیمات پر مکمل شفافیت سے عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے سیاسی کرپشن کے خاتمہ کا عہد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے عوام سے جو وعدے کئے ہیں ان پر بہر صورت عمل کیا جائے گا۔ چندر شیکھر راؤ نے شہدائے تلنگانہ کے افراد خاندان کو امداد کے علاوہ1969ء تلنگانہ تحریک میں اپنی جانیں قربان کرنے والے افراد کے خاندانوں کی بھی مدد کا اعلان کیا ہے۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ تحریک کے دوران عائد کئے گئے تمام مقدمات سے جلد دستبرداری کا بھی اعلان کیا۔ تلنگانہ اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر پر مباحث کا چندر شیکھر راؤ نے تفصیل سے جواب دیا اور اپنی حکومت کی ترجیحات کی وضاحت کی۔ انہوں نے کسانوں کے زرعی قرضہ جات کے علاوہ گولڈ لون کی بھی معافی کا اعلان کیا اور کہا کہ اس سے سرکاری خزانہ پر 19ہزار کروڑ روپئے کا زائد بوجھ عائد ہوگا جبکہ 26لاکھ خاندان قرض کی لعنت سے نجات پالیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ قرض کے سلسلہ میں بینکرس سے تفصیلات طلب کی گئی ہیں اور توقع ہے کہ اندرون پانچ یوم بینکرس کسانوں کے قرضہ جات کی تفصیل حکومت کو پیش کردیں گے۔ چیف منسٹر نے درج فہرست اقوام و قبائیل، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کی بھلائی کیلئے آئندہ پانچ برسوں میں ایک لاکھ کروڑ خرچ کرنے کا اعادہ کیا اور کہا کہ دلت طبقہ کی بھلائی کیلئے آئندہ پانچ برسوں میں 50ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ ہے۔ فلاحی اسکیمات کے سلسلہ میں حکومت بہت جلد ویژن ڈاکیومنٹ جاری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام اسکیمات پر عمل آوری کو مخصوص مدت میں مکمل کرنے کیلئے ایکشن پلان تیار کیا جائے گا۔کے سی آر نے کہا کہ وہ بارہا اس بات کا اعترا ف کرچکے ہیں کہ صدر کانگریس سونیا گاندھی کی مساعی کے سبب تلنگانہ ریاست حاصل ہوئی ہے۔ وہ چیف منسٹر کی حیثیت سے سرکاری طور پر اس سلسلہ میں سونیا گاندھی سے اظہار تشکر کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں کسی کو شبہ کی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے۔ انہوں نے تلنگانہ کی تشکیل کے سلسلہ میں بی جے پی کے تعاون کا بھی تذکرہ کیا اور اس سلسلہ میں پارٹی کے صدر راجناتھ سنگھ سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے سی پی آئی، بی ایس پی کے علاوہ جملہ 33جماعتوں کی تائید پر اظہار تشکر کیا۔انہوں نے کہا کہ گورنر کے خطبہ میں حکومت کی پالیسیوں کا سرسری انداز میں تذکرہ کیا گیاہے جبکہ مجموعی طور پر ایکشن پلان تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے حصول کیلئے کوئی ایک شخص ذمہ دار نہیں بلکہ تلنگانہ کا ہر شہری جدوجہد میں برابر کا شریک رہا اور تلنگانہ حصول کا سہرا تمام تلنگانہ باشندوں کے سر جاتا ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد عوام نے کئی توقعات وابستہ کی ہیں اور ہماری کوشش ہوگی کہ سنہری تلنگانہ کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ نئی ریاست کی تعمیر نو میں اپنی حصہ داری ادا کریں اور وہ چاہتے ہیں کہ تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اتفاق رائے سے پالیسی و پروگرام تیار کریں۔انہوں نے کہا کہ پولٹیکل کرپشن کے خاتمہ کے ذریعہ ہی اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کرپشن میں اگر میرے ارکان خاندان ہی ملوث کیوں نہ ہوں انہیں جیل بھیج دوں گا۔چیف منسٹر نے پنشن میں اضافہ کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر عمل آوری کی تاریخ کا اندرون دس یوم اعلان کردیا جائے گا۔ انہوں نے ایم بی بی ایس داخلوں اور طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کے بارے میں کُل جماعتی اجلاس کی طلبی کا تیقن دیا۔ انہوں نے تلنگانہ میں برقی بحران کیلئے سابقہ کانگریس حکومت کی پالیسیوں کو ذمہ دار قراردیا۔ کے سی آر نے بتایا کہ آئندہ تین برسوں میں تلنگانہ کو برقی کی پیداوار میں خودمکتفی ریاست کا درجہ حاصل ہوجائے گا۔ تلنگانہ جینکو 6000میگا واٹ برقی تیار کرے گا جبکہ چھتیس گڑھ اور دیگر خانگی اداروں سے 4000میگا واٹ برقی خریدی جائے گی۔ اس کے علاوہ مرکز سے تلنگانہ میں4000میگا واٹ صلاحیت والے این ٹی پی سی پراجکٹ کے قیام کی مساعی کی جائے گی۔ اس طرح تلنگانہ میں 20ہزار میگاواٹ برقی دستیاب رہے گی۔ انہوں نے تلنگانہ جہد کاروں اور طلباء کے خلاف عائد کردہ مقدمات سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران ان کے خلاف 489 مقدمات درج کئے گئے۔ طلباء، سرکاری ملازمین اور جہد کاروں کے تمام مقدمات واپس لئے جائیں گے۔ جہاں تک ریلوے مقدمات کا سوال ہے اس سلسلہ میں مرکز سے مشاورت کی جائے گی۔