نئی دہلی 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) پارٹی کے مستحکم مظاہرہ سے بلند حوصلہ بی جے پی نے آج کہاکہ ملک کے عوام نے خاندانی حکمرانی کو مسترد کردیا ہے اور سخت جدوجہد کرنے والوں کو انعام دیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ورثہ میں ملنے والی سیاست اور خاندانی حکمرانی کی سیاست کو ہندوستان کے عوام نے سزا دی ہے اور سخت محنت کرنے والوں کی سیاست کو انعام دیا ہے۔ یہ سیاست کارناموں اور مقاصد کے حصول کی سیاست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی کی کارکردگی کو عوام کی جانب سے انعام حاصل ہوا ہے۔ بی جے پی کے قومی ترجمان روی شنکر پرساد نے کہاکہ انتخابی رجحان کے مطابق ممکن ہے کہ بی جے پی کو لوک سبھا میں اکثریت حاصل ہوجائے۔ تازہ ترین رجحانات کے بموجب بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھگوا پارٹی کی قیادت میں 273 سے زیادہ نشستیں حاصل کرلے گی۔ اِس کی حلیف پارٹیاں بھی 50 سے زیادہ نشستوں میں سبقت حاصل کرچکی ہیں۔ اگر گجرات، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش کے انتخابی مظاہرے کو اشارہ سمجھا جائے تو مودی کی حکومت پورے ملک پر یقینی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ مسلمانوں نے بھی بی جے پی کی تائید میں ووٹ دیا ہے۔ انتخابی رجحانات سے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی سینئر قائد وینکیا نائیڈو نے کہاکہ پارٹی نتائج کا تجزیہ کرے گی۔ اُنھوں نے بی جے پی کے ہر کارکن کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔ بعض قائدین کے آئندہ کردار کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ سینئر اور نوجوان قائدین کے امتزاج سے نئی حکومت تشکیل دی جائے گی۔ اُنھوں نے اڈوانی کے کردار کے بارے میں سوالوں کا جواب دینے سے گریز کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ عوام ذات پات اور انتشار کی سیاست سے تنگ آچکے تھے۔ اُنھوں نے کامیابی کو مودی کی سخت محنت اور اُن کے قریبی ساتھی امیت شاہ کی جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ اڈوانی اور سشما سوراج مودی کو پارٹی کی انتخابی کارکردگی پر مبارکباد پیش کرچکے ہیں۔ نتیش کمار حکومت کے مستقبل کے بارے میں بی جے پی کے ترجمان پرکاش جاودیکر نے کہاکہ جو لوگ مودی سے نفرت کرتے ہیں ناپید ہوجائیں گے۔