حیدرآباد ۔ 13 ۔ اگست (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے صدر پردیش کانگریس تلنگانہ پونالہ لکشمیا کی جانب سے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کئے جانے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ۔ پونالہ لکشمیا نے ٹی آر ایس کے 70 دن کی حکومت کے دوران عوامی وعدوں کی تکمیل کے بارے میں 28 سوالات پر مشتمل مکتوب کے سی آر کو روانہ کیا ہے ۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی راما راؤ نے الزام عائد کیا کہ عوام میں امیج بہتر بنانے کیلئے صدر پی سی سی اس طرح کے حربے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس پارٹی کو عوام نے انتخابات میں بری طرح مسترد کردیا اسے عوامی حکومت پر تنقید کرنے کا حق حاصل نہیں۔ انہوں نے لکشمیا سے سوال کیا کہ کانگریس نے اپنے دس سالہ دور حکومت میں عوام کی بھلائی کیلئے کتنے کام انجام دیئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے ایک بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس کا تذکرہ کیا جاسکے۔ اس کے برخلاف ٹی آر ایس حکومت نے 60 دنوں میں 43 اہم فیصلے کئے ہیں جن پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کابینی اجلاس میں حکومت نے عوام سے کئے گئے اہم وعدوں کی تکمیل کا فیصلہ کیا۔
کے ٹی آر نے بتایا کہ کسانوں کے زرعی قرضہ جات کی معافی اور ملازمین کیلئے خصوصی انکریمنٹ سے متعلق فائلوں پر چیف منسٹر نے دستخط کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہے اور اپوزیشن جماعتیں غیر ضروری الزامات کے ذریعہ الجھن پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کے ٹی آر نے کانگریس کے علاوہ بی جے پی کو بھی مشورہ دیا کہ وہ الزام تراشی کے بجائے عوامی ، فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں حکومت سے تعاون کریں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ دلتوں کو اراضی کی تقسیم اور بیواؤں ، معمرین اور معذورین میں وظائف کی تقسیم کا بہت جلد آغاز ہوگا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ ٹی آر ایس نے عوام سے جو بھی وعدے کئے ہیں، ان پر بہر صورت عمل کیا جائے گا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی جے پی صدر کشن ریڈی قانون سے واقفیت کے بغیر ہی بیانات جاری کر رہے ہیں۔ حیدرآباد کے لاء اینڈ آرڈر پر گورنر کو اختیارات کی بی جے پی کی جانب سے تائید کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ گورنر کو زائد اختیارات ریاستوں کے معاملات میں مداخلت ہے۔ آندھراپردیش تنظیم جدید بل 2014 ء میں کہیں بھی اس کا تذکرہ نہیں۔ مرکزی حکومت آندھراپردیش کے چیف منسٹر کے دباؤ میں مخالف تلنگانہ فیصلے کر رہی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اپوزیشن کی بیان بازی سے اسے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ عوام پوری طرح ٹی آر ایس کے ساتھ ہیں۔