ٹراویل ایجنٹس کی چاندی ، سعودی سے ویزوں کی مسدودی کا بہانہ ، سعودی ایرلائنس ٹکٹوں کی شرح میں تخفیف
حیدرآباد ۔15 مئی (سیاست نیوز) ماہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل سعودی ایرلائنس کے ٹکٹس اور سعودی ویزے کیلئے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ماہ رجب کے آغاز کے ساتھ ہی مسلمان بغرض ادائیگی عمرہ و زیارت مدینہ منورہ سعودی عرب روانہ ہونے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں لیکن انہیں رجب، شعبان اور رمضان المبارک کے دوران سفر مقدس کیلئے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب سعودی عرب کیلئے ویزا حاصل کرنے عوام ایجنٹس کو ہزاروں روپئے ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ بتایا جاتا ہیکہ فی الحال ٹراویل ایجنٹس ویزا فیس کے طور پر 15 تا 25 ہزار روپئے وصول کررہے ہیں اور مقدس شب کے دوران حرم پاک میں رہنے کی خواہش میں عوام بھاری قیمتیں ادا کرنے سے بھی گریز نہیں کررہے ہیں۔ گذشتہ ایک ماہ سے ویزوں کی اجرائی میں تاخیر کے ساتھ ساتھ مختص کردہ کوٹہ کی تکمیل کا اعلان کرتے ہوئے یہ کہا جارہا ہیکہ ویزوں کی اجرائی کا سلسلہ بند ہے لیکن جو لوگ بھاری رقومات ادا کررہے ہیں انہیں ویزوں کی اجرائی باآسانی عمل میں آرہی ہے۔ گذشتہ دنوں شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ایک ٹراویل ایجنسی کے ویزوں کے اسٹامپنگ کیلئے فی کس 20 ہزار روپئے وصول کئے جانے کی اطلاع ہے اور یہ گروپ آئندہ ہفتہ مکہ مکرمہ کیلئے روانہ ہوگا۔ سعودی عرب کی جانب سے ماہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ویزوں کی اجرائی میں تاخیر کے سبب ٹراویل ایجنٹس و درمیانی افراد کی چاندی ہورہی ہے۔ چند برس قبل صرف ماہ رمضان المبارک کے دوران ویزوں اور ٹکٹ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا تھا لیکن اس مرتبہ ماہ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل ہی ویزوں کی قیمتوں میں زبردست اچھال ریکارڈ کیا گیا ہے اور سعودی ایرلائنس پر اس کا منفی اثر مرتب ہوا ہے۔ ذرائع کے بموجب سعودی ایرلائنس کے ٹکٹ میں 3 ہزار روپئے تک کی کمی واقع ہوئی ہے چونکہ ویزوں کی عدم اجرائی کے سبب مسافرین کی تعداد میں کمی محسوس کی جارہی ہے۔ سعودی سفارتخانہ و قونصل خانہ کو اس سلسلہ میں ضروری وضاحت کرنی چاہئے کہ آیا سعودی عرب عمرہ ویزا کیلئے کوئی فیس وصول کرتا ہے یا پھر جو ویزا فیس وصول کی جارہی ہے وہ درمیانی افراد کی آمدنی تو نہیں ہے۔ سعودی عرب بغرض عمرہ ادائیگی کیلئے روانہ ہونے والوں کو ویزا فیس کے طور پر عموماً 5 تا 8 ہزار روپئے ادا کرنے پڑتے تھے، لیکن حالیہ دنوں میں یہ 5 تا 8 ہزار روپئے 25 ہزار تک پہنچ چکے ہیں۔