اسلام آباد 22 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان میں نواز شریف حکومت پر استعفی کیلئے دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے تحریک انصاف پارٹی کے 34 ارکان پارلیمنٹ نے قومی اسمبلی سے استعفی پیش کردیا ہے تاہم ان کی پارٹی نے حیرت انگیز طور پر پہلے دور کی بات چیت ناکام ہونے کے بعد بات چیت کے دوبارہ احیاء سے اتفاق کرلیا ہے ۔ اسلام آباد میں ہزاروں مظاہرین کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے نواز شریف کے استعفی کا مطالبہ کرنے کے بعد دوسری مرتبہ عمران خان کی قیادت والی پاکستان تحریک انصاف پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں جاریہ بحران پر غور کیا گیا ۔ یہ اجلاس ارکان پارلیمنٹ بشمول عمران خان کے استعفے سینئر لیڈر شاہ محمود قریشی کی جانب سے قومی اسمبلی کے سکریٹری محمد ریاض کو سونپ دئے جانے کے بعد منعقد ہوا تھا ۔ ارکان کے استعفوں سے حکومت کے استحکام پر کوئی اثر نہیں پڑیگا کیونکہ نوام شریف کی قیادت والی پاکستان مسلم لیگ کو 342 رکنی قومی اسمبلی میں 190 ارکان کی تائید حاصل ہے ۔ کور کمیٹی اجلاس کے بعد محمود قریشی نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی مذاکرات کیلئے تیار ہے ۔ چہارشنبہ کو پہلے دور کی بات چیت کے بعد عمران خان کی تحریک انصاف اور مذہبی رہنما علامہ طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک نے بات چیت کو معطل کردیا تھا ۔ عمران خان اب تک کہتے رہے ہیں کہ نواز شریف کے مستعفی ہونے کے بعد ہی بات چیت ہوگی لیکن اب ان کا موقف بدل گیا ہے ۔