عمان کی اعلیٰ قیادت سے سشما سوراج کی سیر حاصل بات چیت

مسقط۔18 فروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اُمور خارجہ سشما سوراج جو تیل کی دولت سے مالامال عمان کو اپنے اولین سرکاری دورہ پر ہیں، انہوں نے آج سرکردہ عمانی قائدین سے ملاقات کی جنہوں نے ہندوستان کے ساتھ روابط کو فروغ دینے کے لئے اپنے ملک کی شدید خواہش کا اظہار کیا۔ سشما نے عمان کے نائب وزیراعظم سید فہد بن محمود السعید، اپنے ہم منصب یوسف بن علاوی بن عبداللہ اور وزیر دفتر شاہی جنرل سلطان بن محمد النعمانی کے ساتھ سیر حاصل بات چیت کی۔ یوسف کے ساتھ اپنی میٹنگ کے دوران سشما نے باہمی مفاد کے مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا جن میں خطہ کے معاملوں پر بھی غوروخوض کیا گیا۔ وزارتِ اُمور خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے کہا کہ دونوں قائدین نے بحری اعتبار سے پڑوسیوں کی حیثیت سے تعلقات کے کلیدی پہلوؤں پر بطور خاص توجہ مرکوز کی۔ ہندوستانی عہدیداروں نے بتایا کہ وزیر اُمور خارجہ نے مختلف سیاسی، معاشی، دفاعی، سلامتی اور عوام سے عوام کے رابطوں کا جائزہ لیا۔ اکبرالدین کے مطابق وزیر اُمور خارجہ نے نائب وزیراعظم سید فہد سے بھی ملاقات کی جنہوں نے کہا کہ عمان، ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کا خواہش مند ہے۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ سشما کا اس خلیجی خطے کو تیسرے دورہ ہے۔ وہ قبل ازیں گزشتہ سال ستمبر میں بحرین اور نومبر میں متحدہ عرب امارات کا سفر کرچکی ہیں، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ہندوستان اس اہم خطے کے ساتھ اپنے تعلقات کو کافی اہمیت دیتا ہے اور نئی حکومت اسی رجحان کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔ ہندوستانی عہدیداروں کے مطابق سشما نے علاقائی مسائل پر بھی بات کی جس میں ہندوستان اور عمان دونوں کا مفاد پوشیدہ ہے۔ ہندوستان خلیجی خطے کی سلامتی اور اس کے استحکام کو کافی اہمیت دیتا ہے جہاں لگ بھگ 7 ملین ہندوستانی برسرکار ہیں۔ خلیجی ممالک ہندوستان کی خام تیل کی ضروریات کے دوتہائی حصے کی تکمیل کرتے ہیں اور ہندوستان کے لئے سب سے بڑا علاقائی تجارتی بلاک بھی ہیں، جو ہندوستان کی عالمی تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ فراہم کرتے ہیں۔ عہدیداروں نے کہا کہ ہندوستان اور عمان کا عوام سے عوام روابط اور تاریخی، معاشی و ثقافتی اعتبار سے نہایت مضبوط رشتہ ہے۔ عمان میں مختلف شعبوں میں زائد از 7 لاکھ ہندوستانی کام کرتے ہیں۔ وہ عمان میں تارکین وطن کا سب سے بڑا گروپ ہے۔ وہ لگ بھگ 3 بلین امریکی ڈالر سالانہ اپنے ملک کو بھیجتے ہیں۔ سشما نے یہاں آمد کے بعد عمان میں ہندوستانی برادری کے رول کی ستائش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی نہایت ہنرمندانہ خدمات واجبی اُجرت پر دستیاب ہیں جس نے اس قوم کی معیشت کو استحکام ملا ہے۔