علیگڑھ ۔ 17 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : علیگڑھ میں ایک ہندو تنظیم کی جانب سے معلنہ 25 دسمبر کو تبدیلی مذہب پروگرام سے دستبرداری کے باوجود احتیاطی اقدامات برقرار رہیں گے ۔ ضلع انتظامیہ آج یہ اطلاع دی ، دھرم جاگرن سمیتی نے کل 25 دسمبر کے متنازعہ تبدیلی مذہب پروگرام سے دستبرداری اختیار کرلینے کا اعلان کیا تھا ۔ ضلع مجسٹریٹ ابھیشک پرکاش نے ہندو تنظیم کے اعلان کا خیر مقدم کیا اور یہ واضح کیا کہ کرسمس تک تمام احتیاطی اقدامات جاری رہیں گے ۔ انہوں بتایا کہ پروگرام کے منتظمین نے تحریری طور پر نہ تو اجازت طلب کی ہے اور نہ ہی پروگرام منسوخ کرنے کی اطلاع تحریری شکل میں دی ہے ۔ لہذا ہماری چوکسی بدستور برقرار رہے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ ابتداء سے ہی ہم نے یہ واضح کردیا ہے کہ تبدیلی مذہب یا دوبارہ گھر واپسی پروگرام کی تفصیلات سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہے ۔ ہمارا یہ استدلال ہے کہ آگرہ میں متنازعہ تبدیلی مذہب پروگرام کے بعد سے ریاست میں امن و قانون کا مسئلہ بن گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح کے پروگرام کی اجازت نہیں دے سکتے جس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔ قبل ازیں ستیہ پرکاش نومان ضلع صدر ہندوجاگرن سمیتی نے کل شب یہ اعلان کیا تھا کہ 25 دسمبر کا گھر واپسی ( تبدیلی مذہب ) پروگرام منسوخ کردیا گیا ہے ۔ تاہم انہوں نے اس خصوص میں وجوہات اور محرکات کی وضاحت نہیں کی ۔ باور کیا جاتا ہے کہ آگرہ میں جبراً تبدیلی مذہب کے اصل ملزم نندکشور کی گرفتاری اور مقامی حکام کے سخت گیر موقف کے باعث مجوزہ پروگرام منسوخ کردیا گیا ہے ۔