حیدرآباد 26 نومبر (سیاست نیوز) بی جے پی ارکان اسمبلی نے ایوان کے وسط میں دھرنا منظم کرتے ہوئے شہدائے تلنگانہ کے مسئلہ پر بات کرنے کا موقع نہ دیئے جانے کے خلاف احتجاج کیا۔ مسٹر جی کشن ریڈی نے وقفہ سوالات کے دوران شہدائے تلنگانہ کے مسئلہ پر اظہار خیال کے لئے وقت طلب کیا لیکن وقت فراہم نہ کرتے ہوئے اسپیکر اسمبلی نے وقفہ صفر کا آغاز کردیا جس پر برہم جی کشن ریڈی ایوان کے وسط میں پہونچ کر فرش پر بیٹھ گئے۔ دیگر بی جے پی ارکان اسمبلی راجا سنگھ، رام چندر ریڈی، پربھاکر ریڈی بھی اُن کے ہمراہ ایوان کے وسط میں پہونچ کر فرش پر بیٹھ گئے۔ مسٹر مدھو سدن چاری نے بارہا اپیل کی کہ بی جے پی ارکان اپنی نشستوں پر چلے جائیں لیکن بی جے پی ارکان اسمبلی نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایک موقع پر اسپیکر اسمبلی نے بی جے پی ارکان کو موقع فراہم کئے بغیر وقفہ صفر کا آغاز کئے جانے پر معذرت خواہی بھی کی لیکن اس کے باوجود بی جے پی ارکان اسمبلی کا احتجاج جاری رہا۔ ان ارکان اسمبلی کے احتجاج کو ختم کروانے کے لئے ریاستی وزراء مسٹر ٹی ہریش راؤ، ڈاکٹر ٹی راجیا، مسٹر پدما راؤ کے علاوہ دیگر ارکان اسمبلی کو کوشش کرتے ہوئے دیکھا گیا
لیکن احتجاجی ارکان اسمبلی ماننے تیار نہیں تھے جس پر اسپیکر اسمبلی نے چائے کے وقفہ کے لئے اجلاس کو کچھ دیر کے لئے ملتوی کردیا۔ دوبارہ جب ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوا تو اُس وقت چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے احتجاجی ارکان اسمبلی کے احتجاج کو ختم کروانے کے لئے مداخلت کی اور اپیل کی کہ وہ اپنے احتجاج کو ختم کریں۔ اس دوران مسٹرکے چندرشیکھر راؤ نے علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل میں بی جے پی کے کلیدی رول کی سراہنا کرتے ہوئے کہاکہ علیحدہ ریاست کی تشکیل کے لئے پارلیمنٹ میں بل روشناس کروانے میں اُس وقت کے صدر بی جے پی راجناتھ سنگھ کے علاوہ مسٹر ارون جیٹلی اور ریاستی قائدین بی دتاتریہ اور کشن ریڈی کا اہم رول رہا ہے۔ چیف منسٹر نے شہدائے تلنگانہ کے مسئلہ کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسئلہ کی اہمیت کو سمجھا جارہا ہے اِس لئے اِس مسئلہ پر کسی اور دن مباحث رکھے جائیں گے۔ چیف منسٹر کی اپیل پر احتجاجی ارکان اسمبلی نے اپنا احتجاج ختم کیا۔