علحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی رہائی پر اپوزیشن کا اعتراض

راجیہ سبھا میں وزیراعظم سے وضاحت کا مطالبہ، قومی سلامتی پر سمجھوتہ کا الزام

نئی دہلی ۔ 9 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر میں پی ڈی پی ۔ بی جے پی حکومت کی جانب سے ایک علحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی رہائی پر کانگریس کی زیر قیادت اپوزیشن نے آج راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کھڑا کردیا اور وزیراعظم نریندر مودی سے اس مسئلہ پر وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا ۔ آج صبح ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی کانگریس ، ٹی ایم سی، جنتا دل متحدہ اور بی ایس پی نے یہ مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ علحدگی پسند لیڈر کی رہائی ایک سنگین معاملہ ہے جس سے قومی سلامتی سے وابستہ ہے، لہذا ایوان کی کارروائی معطل کرتے ہوئے اس کو زیر بحث لایا جائے۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ جہاں تک مرکزی حکومت کا تعلق ہے قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور وزیر داخلہ نے اس خصوص میں ریاستی حکومت سے ایک رپورٹ طلب کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ ابتدائی حقائق سامنے آئے ہیں اور وزیر داخلہ اس مسئلہ پر بیان دیں گے۔ تاہم نائب صدرنشین پی جے کورین نے اپوزیشن کی تحریک التواء کو مسترد کردیا ۔ اس کے باوجود کانگریس ارکان نے اس مسئلہ پر وزیراعظم سے بیان دینے کا اصرار کیا اور ایوان کے وسط میں پہنچ گئے جس کے باعث 15 منٹ کیلئے ایوان کی کارروائی کو ملتوی کردیا گیا ۔ آنند شرما (کانگریس) نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت جموں و کشمیر علحدگی پسندوں اور قوم دشمن عناصر کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے لیکن یہ ملک اسے قبول کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہے ۔ مایاوتی / بی ایس پی نے کہا کہ چیف منسٹر مفتی سعید نے یہ متنازعہ بیان دینے کے بعد کہ ریاست میں آزادانہ منصفانہ انتخابات کا سہرا پاکستان اور علحدگی پسندوں کے سر جاتا ہے اور اب ایک علحدگی پسند لیڈر کو جیل سے رہا کردیا ہے جو کہ قومی مفاد میں نہیں ہے بلکہ یہ قوم دشمن کی تعریف میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو چاہئے کہ محض اقتدار کی لالچ میں قومی مفادات پر سمجھوتہ نہ کرنے شرد یادو (جنتا دل متحدہ) نے کہا کہ بی جے پی کا یہ فریضہ ہے کہ اس مسئلہ پر وضاحت کرے کیونکہ تشکیل حکومت سے دو ماہ قبل اس نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مذاکرات کئے تھے ۔ ڈیرک اوبرین (ٹی ایم سی) نے کہا کہ ملک کی سلامتی سپر سمجھوتہ کرلیا گیا ہے کیونکہ سیاسی نظریات پر ذاتی مفادات غالب آگئے ہیں اور وزیراعظم کا بیان اس مسئلہ پر ناگزیر ہے۔ تاہم میر محمد فیاض (پی ڈی پی) نے یہ مسئلہ اٹھانے پر کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کانگریس نے اس وقت لب کشائی نہیں کی تھی جب سال 2002 ء میں پی ڈی پی۔کانگریس مخلوعہ حکومت نے حریت قائدین گیلانی ، شبیر شاہ اور یسین ملک کو رہا کردیا گیا تھا۔نائب صدرنشین کورین نے تحریک التوا کو نامنظور کرنے کا اعلان کیا تو کانگریس ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور آتنک وادیوں کو چھوڑنے والو، شرم کرو شرم کرو کے نعرے بلند کئے۔