گوہاٹی۔ 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) عصمت ریزی کے مبینہ ملزم کے خلاف عوام نے غیرمعمولی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جیل سے باہر گھسیٹ کر ہلاک کردیا۔ یہ واقعہ ناگالینڈ کے دیماپور ٹاؤن میں پیش آیا جہاں تقریباً 10 ہزار افراد پر مشتمل ہجوم سنٹرل جیل میں اچانک گھس پڑا۔ وہ عصمت ریزی کے ملزم کو باہر لائے اور برہنہ کرکے شدید زدوکوب کیا جس کے نتیجہ میں وہ برسرموقع ہلاک ہوگیا۔ اس واقعہ کے بعد دیماپور میں صورتِ حال کشیدہ ہوگئی ہے ، اور پولیس نے کرفیو نافذ کردیا ہے۔ ملزم کی 35 سالہ شخص کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے جو پرانی کاروں کا ڈیلر تھا۔ وہ آسام سے نقل مقام کرنے والا بتایا گیا ہے۔ اس کے بارے میں بنگلہ دیشی شہری ہونے کا بھی شبہ ہے۔ دیما پور سپرنٹنڈنٹ پولیس میرین جامیر نے کہا کہ ہجوم نے کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی اور چند پولیس گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا۔ انہیںمنتشر کرنے کیلئے پولیس نے فائرنگ کی جس میں تقریباً 20 افراد زخمی ہوگئے۔ دیماپور میں عصمت ریزی کا یہ واقعہ 23 فروری کو پیش آیا تھا
جس کے بعد ناگا اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور ناگا ویمن ہو ہو کی زیرقیادت کئی تنظیموں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ملزم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے بند بھی منایا تھا۔ صورتِ حال اُس وقت ابتر ہوگئی جب احتجاجیوں نے غیرمقامی افراد کی تقریباً 20 دُکانوں کو نقصان پہنچایا۔ ضلع حکام نے یہاں دفعہ 144 نافذ کردیا تھا، اس کے باوجود ہزاروں مقامی افراد نے دیماپور میونسپل کونسل کے دفتر کی سمت احتجاجی مارچ کیا اور بنگالی بولنے والے مسلمانوں کا تجارتی لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہاں سے احتجاجی 7 کیلومیٹر دور جیل کی سمت بڑھے اور وہاں پہنچ کر انہوں نے جیل کی دونوں گیٹس توڑ دیئے۔ انہوں نے ملزم کو اپنی تحویل میں لے لیا اور برہنہ کرکے گھسیٹتے ہوئے اسے کلاک ٹاور لائے۔ یہاں انہوں نے برسر عام اسے پھانسی دینے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم ملزم گھسیٹنے کی وجہ سے راستے ہی میں زخموں سے جانبر نہ ہوسکا۔ احتجاجیوں نے اس کی نعش کو ٹو وہیلر سے باندھ دیا اور کلاک ٹاور تک گھسیٹ کر لائے۔ یہاں اس کی نعش کو لٹکا دیا گیا۔ دیما پور میں پولیس نے کرفیو نافذ کردیا ہے۔