خواتین کیخلاف جنسی حملے افسوسناک، فلم اداکار عامر خان کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 9 ڈسمبر (پی ٹی آئی) بالی ووڈ سوپر اسٹار عامر خان نے دہلی میں خاتون کی مبینہ عصمت ریزی کے واقعہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایسے معاملات میں فوری اور یقینی سزا ہی مزاحم ثابت ہوسکتی ہے۔ خواتین پر جنسی حملوں کے واقعات کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ مجرمین کو سخت سزا یقینی بنائی جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ دہلی میں جو کچھ پیش آیا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ہر وقت وہ اِس طرح کی خبریں پڑھتے رہتے ہیں۔ اُن کا دل اِن واقعات سے غمزدہ ہوجاتا ہے اور اس طرح کے واقعات انتہائی افسوسناک ہے۔ عامر خان نے آج اُن کی آنے والی فلم ’’پی کے‘‘ کے سلسلہ میں پریس کانفرنس سے مخاطب تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ مجرمین کو جلد سزا یقینی بناتے ہوئے عصمت ریزی کے واقعات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اُن کا نقطہ نظر یہ ہے کہ عصمت ریزی کے واقعات کو اگر کم کرنا ہو تو مجرمین کو جلد از جلد سزا یقینی بنانا ضروری ہے۔ اِس وقت یہ رفتار کافی سست ہے۔ انصاف کا عمل کافی طویل ہے۔ فلم اداکار نے بتایا کہ اُن کے ٹی وی شو ’’ستیہ میوجیتے‘‘ میں بھی اُنھوں نے یہی کہا تھا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے معاملہ میں فاسٹ ٹریک عدالتیں ہونی چاہئے جو ترجیحی بنیادوں پر اِن مقدمات کی یکسوئی کریں۔ ’’پی کے‘‘ فلم اداکارہ انوشکا شرما نے پریس کانفرنس میں عامر خان کے احساسات سے اتفاق کیا۔ ملک کے مختلف شہروں میں ’’کس آف لو‘‘ پروگرامس کے انعقاد کے بارے میں جاری تنازعہ پر عامر خان نے کہاکہ محبت کا عوام کے سامنے اظہار غلط نہیں۔ اگرچیکہ یہ ایک انفرادی معاملہ ہے۔ وہ خود اپنی محبت کا عوام کے سامنے اظہار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کرن جی (عامر خان کی بیوی) اُن کے ساتھ ہوتی ہیں تو وہ اُن کا ہاتھ تھامے ہوتے ہیں۔ اُنھیں اندازہ ہے کہ بعض لوگ اِسے غلط تصور کریں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی مرضی کے مطابق چل سکتے ہیں۔ عامر خان نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ کرن جی اُن کی زندگی میں آنے کے بعد کافی مثبت تبدیلیاں آئی ہیں اور اِس کا سہرا یقینا کرن راؤ کو جاتا ہے۔ عامر خان نے کہاکہ 3 سال یا اُس سے زائد عرصہ میں آپ جو تبدیلیاں اُن میں دیکھ رہے ہیں وہ یقینا کرن راؤ کی بدولت ہیں۔ پہلے وہ خاموش طبع شخص تھے لیکن اب اُن کا معاملہ بالکل برعکس ہوچکا ہے۔ یہ صرف کرن راؤ کی وجہ سے ہے۔ اُنھوں نے آنے والی فلم ’’پی کے‘‘ میں اپنے رول کا بھی تذکرہ کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ فلم کے پہلے پوسٹر پر عوام کا جو ردعمل دیکھا گیا وہ فطری تھا لیکن وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ایک فیملی فلم ہوگی جسے سب مل کر دیکھ سکتے ہیں۔ اِس فلم میںاُنھوں نے ایک سادہ لوح اور معصوم شخص کا کردار ادا کیا ہے جو بھوجپوری بولتا ہے۔