عصمت ریزی پر راجیہ سبھا میں فکر و تردد

نئی دہلی۔/9ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام )راجیہ سبھا میں آج تمام ارکان نے سیاسی اختلافات کے قطع نظر قومی دارالحکومت میں ایک نوجوان خاتون ( ینگ ایکزیکیٹو) کی ایک ٹیکسی میں عصمت ریزی کے واقعہ پر فکر و تردد کا اظہار کیا ہے اور بیک آواز اس گھناؤنے جرم کی مذمت کرتے ہوئے ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے رجنی پٹیل ( کانگریس) نے کہا کہ پیشرو یو پی اے حکومت نے عصمت ریزی کے کیسوں میں سزا یافتہ ملزمین کی نام ظاہر کرتے ہوئے ایک ویب سائٹ شروع کرنے کی کوشش کی تھی لیکن حکومت کی تبدیلی کے بعد ان کوششوں کو بند کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور جنوبی آفریقہ جیسے ممالک میں دست درازی کے مجرمین کے نام ویب سائیٹ پر رکھا جاتا ہے جس کے پیش نظر یو پی اے حکومت کی مذکورہ کوششوں کا احیاء کیا جانا چاہیئے۔ کانگریس ایم پی نے کہا کہ اقتدار میں آنے سے قبل بی جے پی نے بلند بانگ دعوے کئے لیکن اب اس کی حکومت میں خواتین مزید غیر محفوظ ہوگئی ہیں۔ انہوں نے دہلی واقعہ کے قصور وار اور ڈرائیور کو جعلی سرٹیفکیٹ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ویپلو ٹھاکر ( کانگریس ) نے کہاکہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جبکہ ان کی پارٹی کے ایک اور رفیق وجئے لکشمی سادھو نے کہا کہ حکومت کے قول و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے جو کہ شرمناک امر ہے تاہم بی جے پی رکن وجئے گوئل نے کیاب میں گلوبل پوزیشن سسٹم (GPS) نہیں تھا اور ڈرائیور کو جاری کردہ صداقت نامہ کردار جعلی تھا جس کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرتے ہوئے سزا دی جائے۔ انہوں نے اندرون تین یوم مفرور ملزم کو گرفتار کرلینے پر دہلی پولیس کی ستائش کی اور کہا کہ پولیس ملازمین کے اوقات ڈیوٹی گھٹا دیا جائے جو کہ اب 16گھنٹے ہیں۔
نائب صدر نشین راجیہ سبھا مسٹر پی جے کورین نے کہا کہ یہ ایوان مذکورہ گھناؤنے جرم کی مذمت کرتا ہے اور توقع ہے حکومت کہ مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچانے اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کرے گی۔ عصمت ریزی کے واقعات میں اضافہ پر حکومت کے غیر ذمہ دارانہ اور غیر حساس رویہ کی مذمت کرتے ہوئے سی پی ایم نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ ان کے آفس میں ایک ہی مقام پر مسائل کی یکسوئی مرکز One Stop Crisis Centre کے قیام کی تجویز ختم کردینے کی رپورٹ پر واضاحت کریں جبکہ یو پی اے حکومت نے نربھئے ایکٹ کے نفاذ کے بعد اس طرح کا مرکز قائم کرنے کی تجویز رکھی تھی۔ سی پی ایم رکن شریمتی این سیما نے وزیر اعظم آفس کے فیصلہ پر حیرت کا اظہار کیا اور بتایا کہ’ یکسوئی بحران مرکز‘ کے قیام کیلئے فنڈس بھی منظور کردیئے گئے تھے اور وزارت بہبود خواتین و اطفال نے کام بھی شروع کردیا تھا جبکہ میڈیا میں شائع رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم آفس نے ہر ایک ضلع میں ’

یکسوئی بحران مرکز‘ کے قیام کیلئے وزارت بہبود خواتین و اطفال نے منصوبہ سے دستبرداری اختیار کرلی اور یہ عذر پیش کیا کہ مذکورہ اسکیم غیر ضروری ہے اور موجودہ سہولیات کے ذریعہ اس طرح کی خدمات فراہم کی جائیں گی۔شریمتی سیما نے بتایا کہ جسٹس ایس جے ورما کمیٹی سفارش پر یہ پراجکٹ تیار کیا گیا تھا لیکن پرائم منسٹر آفس (PMO) نے پراجکٹ پر پانی پھیر دیا اور حکومت کا غیر ذمہ دارانہ اور غیر حساس رویہ ایسے وقت سامنے آیا جب خواتین پر مظالم کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا اور وزیر اعظم افس کس طرح اس پراجکٹ کو ختم کرسکتا ہے جبکہ فنڈس بھی جاری کردیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویمنس اینڈ چائیلڈ ڈیولپمنٹ کے مسائل پر اگر وزیر اعظم کا دفتر فیصلہ کرنے لگے تو اس محکمہ کو برخواست کردیا جائے۔ سی پی ایم کی لیڈر نے کہا کہ سابق یو پی اے حکومت کے دوران مراکز کے قیام کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے اور اب این ڈی اے حکومت بھی عوام کو بے وقوف بنارہی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ فیصلہ پر وضاحت کریں۔ سی پی ایم رکن سیما کی جانب سے پیش کردہ مسئلہ پر تمام اپوزیشن جماعتوں نے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔