عراق پر دوبارہ فوج کشی کا نظریہ امریکہ نے مسترد کردیا

واشنگٹن ۔ 22 مئی (سیاست ڈاٹ کام) عراق میں دولت اسلامیہ کے ذریعہ یکے بعد دیگرے مختلف شہروں اور مستقروں پر قبضہ کے تناظر میں امریکہ نے عراق پر دوبارہ فوج کشی کے امکانات کومسترد کردیا۔ وائیٹ ہاؤس پریس سکریٹری جوش رایسنٹ نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر بارک اوباما عراق پر دوبارہ فوج کشی کے نظریئے پر مطمئن نہیں ہیں۔ امریکہ کی یہ ایک ایسی حکمت عملی تھی جو کامیاب ثابت نہیں ہوئی۔ اوباما کے مطابق عراق پر فوج کشی سے امریکی مفاد کا مقصد حل نہیں ہوا تھا اور امریکی مفاد یہ تھا کہ زمینی جنگ لڑنے والی فوج کی اہلیت میں اضافہ کیا جائے۔ عراق میں عراقی افواج کو ہی ایسی تربیت دی جائے جو اپنے ملک کے دفاع میں جنگ و جدال کی ذمہ داری سے دور نہ بھاگیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کیلئے عراق میں مؤثر قیادت کی ضرورت ہے کیونکہ عراق میں ہمہ مسلکی عوام آباد ہیں جن کو ساتھ لیکر چلنا ہی حکومت وقت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔