اندرون ایک ماہ حکومت تشکیل دینے کی ہدایت ۔ حکومت میں داخلی تصادم میں شدت کا اندیشہ
بغداد 11 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) عراق کے نئے صدر نے آج طاقتور سمجھے جانے والے وزیر اعظم نوری المالکی کو نظر انداز کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر کو نئی حکومت کی تشکیل کی ذمہ داری سونپی ہے ۔ انہوں نے حیدر العبادی کو وزارت عظمی کی ذمہ داری سونپی اور ایک ماہ کے اندر نئی حکومت تشکیل دے کر اسے پارلیمنٹ سے منظوری کیلئے رجوع کرنے کو کہا ہے ۔ صدر عراق فواد معصوم کے اس اقدام سے یہ اندیشے بڑھ گئے ہیں کہ حکومت میں داخلی انتشار میں اضافہ ہوجائیگا جبکہ ملک کے شمالی حصوں میں عسکریت پسندوں کا مسئلہ درپیش ہے ۔ حیدر العبادی کو شیعہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے منتخب کیا تھا ۔ اپنے ٹی وی خطاب میں فواد معصوم نے حیدر العبادی کو ذمہ داری سونپنے کا اعلان کیا ۔ واضح رہے کہ چند گھنٹے قبل ہی نوری المالکی نے ایک تقریر کرتے ہوئے معصوم پر ان کی حکومت کے قیام میں رکاوٹ بننے اور دستور و سیاسی عمل کے خلاف بغاوت کرنے کا الزام عائد کیا تھا ۔ نوری المالکی تیسری معیاد کیلئے تقرر پر بضد تھے تاہم شیعہ جماعتوں میں ان کی حمایت میں کمی آگئی تھی ۔ حیدر العبادی نے نئی حکومت تشکیل دینے کا عہد کیا ہے اور کہا کہ وہ عراقی عوام کا تحفظ کرینگے ۔ المالکی کے تعلق سے انکے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کی وجہ سے ہی عراق میں بحران پیدا ہوا ہے اور انہوں نے اس سے نمٹنے میں نا اہلی کا ثبوت دیا ۔ العبادی کے اعلان سے قبل المالکی نے ایلیٹ سکیوریٹی فورسیس کو بغداد میں متعین کردیا خاص طور پر ان مقامات پر تعینات کیا گیا جہاں حکومت کے خلاف اور تائید میں مظاہرے ہوا کرتے ہیں۔ یہ اندیشے ظاہر کئے جارہے ہیں کہ وہ اقتدار پر برقرار رہنے طاقت کا استعمال کرسکتے ہیں۔