عراق میں داعش کی بے رحمی ،مسلم دانشوروں کی مذمت

نئی دہلی ۔ 19 اگست (سیاست ڈاٹ کام) دولت اسلامیہ عراق و شام (آئی ایس آئی ایس) کی جانب سے عراقی اقلیتوں پر مظالم ’’نسل کشی سے بدتر‘‘ ہیں۔ ہندوستانی مسلم دانشوروں نے ایک اجلاس میں اسلام کے نام پر اس ’’بے رحمی‘‘ کی مذمت کی۔ ہندوستانی مسلمان اس بے رحمی سے صدمہ محسوس کرتے ہیں جو دولت اسلامیہ کے جنگجو مذہبی اقلیتوں، عیسائیوں، کردوں اور یزیدیوں کے علاوہ دیگر اقلیتوں پر روا رکھے ہوئے ہیں۔ اس مذمتی بیان پر 80 سے زیادہ مسلم دانشوروں، انسانی حقوق کارکنوں اور مذہبی قائدین نے دستخط کئے ہیں جس میں خودساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی اور ان کی خودساختہ خلافت اسلامیہ کی مذمت کی گئی ہے۔ دانشوروں نے امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت پر بھی تنقید کی جو شام اور عراق میں خانہ جنگی کے شعلوں پر تیل چھڑک رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراقی عیسائیوں کا حال زار امریکی غیرقانونی، غیرضروری اور 2003ء میں عراق پر ناجائز حملہ کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے عراق میں فرقہ واریت کے شعلے بھڑک اٹھے۔ مسلم دانشوروں کے ساتھ داعش کی مذمت میں سابق صدر آل انڈیا کرسچن کونسل جان دیال بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس گروپ نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہیکہ مداخلت کریں اور داعش کو اس کی کارستانیوں کیلئے جوابدہ بنائے۔ انہوں نے کہا کہ الزام عائد کیا گیا ہیکہ داعش کی کارروائیاں انسانیت سوز جرائم اور مذہبی نسل کشی سے کم نہیں ہیں۔ دانشوروں نے کہا کہ داعش کی بے رحمی نسل کشی سے کم نہیں۔ وہ لوگ اسلام کی آڑ میں خواتین، بچوں اور عمر رسیدہ افراد کو بھی قتل کررہے ہیں جس کی اسلام قطعی اجازت نہیں دیتا۔