نئی دہلی۔ 12 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ججس کے تقرر کے موجودہ طریقہ کار کو دستوری ترمیم کے ذریعہ بدل دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حکومت نے آج کہا کہ وہ عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتے۔ لوک سبھا میں نیشنل جوڈیشیل اپائنٹمنٹس کمیشن بل 2014ء پر دن بھر ہوئے مباحث کا جواب دیتے ہوئے وزیرقانون روی شنکر پرساد نے کہا کہ حکومت عدلیہ کی آزادی کے حق میں ہے لیکن پارلیمنٹ کی برتری اور اس کا وقار بھی مساوی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ عوامی توقعات کا مظہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت عدلیہ کے اختیارات اور اتھاریٹی میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور ججس کے تقرر کے طریقہ کار کو مزید شفاف بنانے کی خواہاں ہے۔
انہوں نے اپنے غیرمختتم جواب میں کہا کہ آج کی بحث سے یہ ظاہر ہوتا ہیکہ پارلیمنٹ میں کسی بھی موضوع پر مباحث ہوسکتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ارکان پارٹی وابستگی سے بالاتر ہوکر بحث میں حصہ لے سکتے ہیں۔ وزیرقانون اپنا جواب کل پورا کریں گے جس کے بعد دو بلز کیلئے رائے دہی ہوگی۔ یہ دو بلز ججس کے تقرر کیلئے نیا میکانزم قائم کرنے کے مقصد سے متعارف کئے گئے ہیں۔ بحث کے دوران کئی ارکان نے سابق وزیرقانون ایم ویرپا موئیلی کے اس موقف کی تائید کی کہ دہلی عدالتوں میں باصلاحیت ججس کو ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تک پہنچنے کے مواقع فراہم ہونے چاہئے۔ وزیرقانون نے کہا کہ اس اہم ترین قانون میں ترمیم ایک تاریخی موقع ہوگا۔