عدالت کے احاطہ میں ایک ٹیچر کا امتحان

سرینگر ، 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر ہائیکورٹ نے ایک ٹیچر کی قابلیت اور لیاقت جانچنے کیلئے کھلی عدالت میں گائے پر مضمون تحریر کرنے اور جماعت چہارم کے ریاضی کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت دی، جس میں وہ ناکام ہوجانے پر ایک کیس درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس مظفر حسین عطار نے کل ایک عرضی پر سماعت کے دوران یہ ہدایات جاری کئے تھے، جس میں جنوبی کشمیر کے ایک اسکول میں رہبر تعلیم کی حیثیت سے محمد عمران خان کے تقرر کو چیالنج کیا گیا تھا۔

درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کے سرٹیفکیٹس بورڈ آف ہائیر سکنڈری ایجوکیشن دہلی اور گلوبل اوپن یونیورسٹی ناگالینڈ سے جاری کئے ہیں ، جو کہ غیر مسلمہ ہیں اور بورڈ آف ہائیر سکنڈری ایجوکیشن دہلی کی جانب سے مدعی علیہ کو جاری کردہ ’مارکس شیٹ‘ میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اردو میں 74 فیصد، انگریزی میں 73 فیصد اور ریاضی میں 66 فیصد نشانات حاصل کئے ہیں، جس پر عدالت نے ایک سینئر وکیل سے کہا کہ عمران خان سے ایک آسان جملہ انگریزی سے اردو میں ترجمہ کروائیں لیکن مذکورہ ٹیچر ناکام ہوگئے۔ بعد ازاں ٹیچر سے گائے پر ایک مضمون تحریر کرنے کیلئے کہا گیا، وہ اس میں بھی ناکام ہوگئے ۔ عمران خان نے عدالت کے باہر کورٹ روم میں تحریر کرنے کی اجازت طلب کی ،

جس کی اجازت کے باوجود کامیاب نہیں ہوسکے ۔ دریں اثناء عمران خان نے یہ اعلان کیا کہ وہ ریاضی کے مضمون میں مہارت رکھتے ہیں۔ انہیں ایک اور موقع دیتے ہوئے چوتھی جماعت کے ریاضی کا مسئلہ حل کرنے کیلئے دیا گیا ۔ وہ پھر ایکبار ناکام ہوئے ،جس پر فکر و تردد کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس مظفر حسین نے کہا کہ یہ حالات ہمیں ریاست کے دگرگوں حالات کا پتہ دیتے ہیں اور اسکول جانے والے بچوں کو تعلیمی صلاحیت کے بغیر یوں ہی کامیاب کردیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام کو آلودگی سے بچانا حکام کی ذمہ داری ہے لیکن آج کے واقعہ سے یہ ثابت ہوگیا کہ سارے سسٹم میں کس قدر جاہلیت سرایت کرگئی ہے اور تعلیمی صداقتنامہ حاصل کرنے میں فاش غلطی کا ارتکاب کرنے کے باوجود ایک ٹیچر کا تقرر کردیا گیا ۔ ہائیکورٹ جج نے اسٹیڈی سنٹروں کو تعلیمی صداقتنامے چھاپنے کے مراکز سے تعبیر کیا ہے جو کہ نیم تعلیمیافتہ افراد کو اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں فراہم کرتے ہیں ۔ انہوں نے محکمہ تعلیمات کے سکریٹری اور کمشنر کو ہدایت دی کہ اساتذہ کے سرٹیفکیٹ کی جانچ کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دیں تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جاسکے ۔