نابینا حافظ محمد امتیاز محنت سے کبھی نہیں گھبراتے
اسلامی سی ڈیز کی فروخت ، آج کے کام چور نوجوانوں کے لیے سبق
حیدرآباد ۔ 26 ۔ نومبر : ( نمائندہ خصوصی) : انسان اگر معذور ہوجائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنی معذوری کو بہانہ بناکر گداگری شروع کردے ، چاہے کوئی بھی نابینا ، لنگڑا ہو یا دونوں پیروں سے محروم ہو ، اللہ تعالیٰ نے انسان کو محنت کر کے کسب حلال کے ذریعہ اپنا پیٹ بھرنے کی تلقین کی ہے ۔ ایک نابینا حافظ قرآن محمد امتیاز جنہوں نے اپنی پیدائش کے بعد سے اب تک اس رنگیلی دنیا کے جلوے نہیں دیکھے ۔ ان کی عمر 24 سال ہے جب کہ والد کا نام محمد اسلم ہے اور یہ وجئے نگر کالونی کے ساکن ہیں ۔ حافظ محمد امتیاز نے مصباح العلوم سے حفظ مکمل کیا ۔ اپنے خاندان کے یہ بڑے فرزند ہیں جب کہ دیگر تین بھائیوں میں محمد امتیاز ہی واحد نابینا ہیں ۔ نابینا ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی بھی محنت سے جی نہیں چرایا ۔ بلکہ وہ شہر کی مختلف مساجد کے باہر ٹھہر کر اسلامی سی ڈیز فروخت کرتے ہیں جو سورۃ بقرہ ، سورۃ یسین اور علمائے دین کے بیانات شامل ہیں ۔ محمد امتیاز کا کہنا ہے کہ سی ڈیز کی فروخت کے ذریعہ وہ بہ آسانی 6 تا 7 ہزار روپیے ماہانہ کمالیتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک بار اگر کسی مقام پر جاتے ہیں تو سڑک کو اپنی من کی آنکھوں سے ذہن نشین کرلیتے ہیں اور دوبارہ بغیر کسی مدد کے وہاں بہ آسانی پہنچ جاتے ہیں ۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا انہیں کبھی راستہ چلتے ہوئے ٹھوکر کھا کر گرنے کا خوف یا اندیشہ نہیں ہوتا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ راستے کے پتھروں سے زیادہ انسانوں کی ٹھوکروں کا انہیں زیادہ اندیشہ رہتا ہے ۔ انہوں نے ایک اور بات کہی کہ لینے والے ہاتھ سے دینے والا ہاتھ ہمیشہ بہتر ہوتاہے ۔ ہم نے کرنسی نوٹوں کے بارے میں بھی استفسار کیا جس کا جواب دیتے ہوئے محمد امتیاز نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے وہ کافی ذہین ہیں اور چوکنا رہتے ہیں اور کرنسی نوٹوں کو بہ آسانی پہچان لیتے ہیں ۔ انہیں کہیں دور کا سفر درکار ہو تو وہ آٹو کی سواری کرتے ہیں ۔ کیا حافظ محمد امتیاز کی یہ تمام خصوصیات انہیں دیگر عام آدمیوں سے ممتاز نہیں کرتی ؟ آج اچھے خاصے پڑھے لکھے ، ہٹے کٹے اور تندرست نوجوان محنت کرنے سے اس قدر جی چراتے ہیں کہ لوگ انہیں کام چور کہتے ہیں ۔ کئی نوجوان تو ایسے ہیں جو آج بھی اپنے والدین پر بوجھ بنے ہوئے ہیں ۔ بس تین وقت اچھے سے اچھا کھانا اور جدید فیشن کے ملبوسات زیب تن کرنا ہی ان کا مشغلہ ہے ۔ چھوٹے موٹے کاروبار کر کے اپنا اور اپنے خاندان کی کفالت کرنا انہیں بالکل گوارہ نہیں جسے وہ اپنی بے عزتی اور توہین سے تعبیر کرتے ہیں ۔ نابینا حافظ قرآن محمد امتیاز کے بارے میں قارئین کو بتانے کا مقصد یہی ہے کہ نوجوان ان سے سبق سیکھیں ۔۔