عام آدمی کی خاص بات

40 سال سے آٹو چلانے والے 70 سالہ محمد خواجہ
حیدرآباد ۔ 11 ۔ جون : ( نمائندہ خصوصی ) : ’ آٹو والا ‘ یہ لفظ سنتے ہی ہمارے چہروں پر ناراضگی کے آثار اور ذہن میں تکلیف دینا والے شخص کا منظر آجاتا ہے لیکن ان آٹو والوں کی صف میں کچھ ایسے چہرے بھی ہوتے ہیں جنہیں غربت ، اہل و عیال کی ذمہ داریاں ، سڑکوں پر ہر لمحہ مسائل اور حادثات کے خدشات ایسی تکالیف دیتے ہیں جن کو سن کر رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور جب وہ لرزتے لبوں سے اپنی دکھ بھری داستان سناتے ہیں تو سننے والے کی آنکھوں سے آنسو بے اختیار نکل پڑتے ہیں ۔ آج ہم ایسے ہی ایک آٹو والے سے آپ کی ملاقات کروا رہے ہیں جو کہ 70 سال کی عمر میں بھی گذشتہ 40 سال سے آٹو چلانے کی محنت انجام دے رہے ہیں ۔ 70 سالہ محمد خواجہ نامپلی آٹو اسٹانڈ پر گذشتہ 25 سال سے آٹو چلا رہے ہیں ان کی سرویس اتنی طویل ہے کہ اب وہ ’ اسٹیشن کے نانا ‘ کے نام سے مشہور ہوچکے ہیں ۔ ظہیر آباد کے دھناسری گاؤں میں 7 دہے قبل پیدا ہونے والے خواجہ حیدرآباد منتقل ہونے پر حمالی کا کام کیا جس کے بعد رکشہ چلاتے ہوئے اہل و عیال کی کفالت کی جس کے بعد ہوٹل میں کام بھی کیا لیکن 70 برس قبل انہوں نے کرایہ پر آٹو لے کر اسے چلانا کا جو سلسلہ شروع کیا وہ آج تک جاری ہے ۔ گھریلو تفصیلات بتاتے ہوئے خواجہ نے کہا کہ انہیں 10 بچے ہیں لیکن 5 بچوں کا انتقال ہوچکا ہے ۔

جن میں 2 بچے بچپن میں ہی چل بسے ۔ ایک بیٹی کا 35 سال کی عمر میں قلب پر حملہ کی وجہ سے انتقال ہوا اور اب نواسہ اور نواسی کی کفالت کی ذمہ داری بھی ان پر ہی آن پڑی ہے ۔ 17 سال کی عمر میں ایک بیٹا کی موت یرقان اور 37 سال کی عمر میں ایک بیٹے کی سڑک حادثے میں موت ہوگئی ہے ۔ بیٹے کی موت کے بعد بس کے نیچے آکر خود کشی کرنے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن محلے والے اور گھر والوں کے منانے سمجھانے کے بعد خواجہ نے اپنا موقف بدلا ۔ 5 بچوں کی شادیاں ہوچکی ہیں جن میں 2 بچے اپنی زندگی میں مگن ہیں جب کہ ایک بیٹا ان کی خیر خیریت لیتا ہے ۔ خواجہ صاحب نہ کبھی خود اسکول گئے اور نہ ہی انہوں نے اپنے کسی اولاد کو تعلیم دلوائی ہے ۔ غربت کی وجہ سے وہ اپنی اولاد کے تعلیمی اخراجات بھی برداشت نہیں کرپاتے تھے لہذا بچوں کو تعلیم دلوانے کی طرف ان کا کبھی خیال نہیں گیا ۔ حسن نگر اندرا نگر میں رہنے والے خواجہ صاحب کی زندگی ’ روز کمانا اور روز کھانا ‘ کی داستان ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گذشتہ 40 برس سے اپنا ذاتی آٹو خرید نہیں پائے ۔ 70 سال کی عمر میں ضعیفی کے خلاف روزانہ ایک جنگ لڑ رہے خواجہ نے کہاکہ وہ گذشتہ 25 سال سے نامپلی اسٹیشن پر آٹو چلا رہے ہیں ۔ صبح 8 بجے یہاں پہنچتے ہیں اور دوپہر 1 بجے تک ہی محنت کرتے ہیں کیوں کہ بڑھتی عمر کی وجہ سے اب زیادہ محنت نہیں ہوپارہی ہے ۔ خواجہ نے کہا کہ بڑھتی عمر کی وجہ سے رات میں صاف دکھائی نہیں دیتا ۔

سڑکیں بھی پہلی جیسی نہیں ہیں اور گاڑیاں آس پاس سے فراٹے مارتی نکلتی ہیں تو ایک عجیب خوف ہوتا ہے ۔ صبح تا دوپہر تک 600 روپئے کی کمائی ہوجاتی ہے ۔ جس میں 200 روپئے آٹو کاکرایہ ، 150 روپئے گیاس پر خرچ ہوجاتے ہیں اور گھر کو 200 روپئے لے جاتا ہوں اور جس دن کوئی ٹرافک والا چالان کرتا ہے تو گھر خالی ہاتھ ہی لوٹنا پڑتا ہے اور جب گھر خالی ہاتھ لوٹتا ہوں تو رونے کو جی چاہتا ہے ۔ ’ آخر کب تک آٹو چلاؤ گے ‘ ہمارے اس سوال کے جواب میں خواجہ نے ایک آہ بھری اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا کہ جب تک جان ہے تب تک محنت کروں گا ۔ کمائیں گے نہیں تو جیئں گے کیسے بیٹا ؟ یہ گفتگو ہوہی رہی تھی کہ ایک سواری نے خواجہ کو مخاطب کیا جس پر اس بزرگ آٹو ڈرائیور نے کہا ’ بیٹا اب اجازت دیجئے ۔ ‘ اور وہ سواری لے کرنکل پڑے ۔۔