حکومت سعودی عرب کا انتباہ ، پروفیسر ایس اے شکور کا بیان
حیدرآباد ۔ 15 ۔ مئی : ( پریس نوٹ ) : پروفیسر ایس اے شکور اسپیشل آفیسر تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی نے بتایا کہ حکومت سعودی عربیہ نے مملکت کے اندر بعض اشیالانے پر سختی کے ساتھ امتناع عائد کیا ہے جس کی خلاف ورزی پر وہاں کے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرکزی حج کمیٹی نے حج 2015 کے گائیڈ لاینز کے پیراگراف 25 کے تحت عازمین کرام کو سعودی عرب لے جانے والی ممنوعہ اشیاء کی تفصیلات سے آگاہ کیا ہے ۔ اس لیے عازمین کو چاہئے کہ وہ اس پیراگراف کا بغور مطالعہ کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ انہیں کسی دشواری اور تکلیف کا سامنا نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عربیہ میں خشخش ، کسی بھی قسم کے جنسی اشتعال انگیزی کے سامان اور ادویہ ، کریم ، طلا ، سیاسی لٹریچر ، فحش تصاویر یا لٹریچر ، مصنوعی کافور ، گٹکھا ، کھینی ، سسٹون ، خمیرہ ، پیپرمنٹ ، یا کسی بھی قسم کی نشیلی دوا ، وغیرہ لے جانے پر سخت پابندی ہے ۔ جو لوگ اس کی خلاف ورزی کریں گے ان کو سزا دی جائے گی ۔ اس لیے عازمین حج اس بات کی احتیاط رکھیں کہ وہ کوئی ممنوعہ اشیاء اپنے ساتھ نہ لے جائیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اس تعلق سے کافی تشہیر کیے جانے کے باوجود بعض عازمین حج اس پر توجہ نہیں دیتے ۔ عازمین حج کو خاص توجہ دینی چاہئے اور ممنوعہ اشیاء اپنے ساتھ لے جانے سے گریز کرنا چاہئے ۔ اگر کوئی ایسی اشیاء رکھ تو امبارکیشن پوائنٹ پر تعینات اسٹاف کو مذکورہ ممنوعہ اشیاء کو لے جانے سے روکنے کا اختیار ہے ۔ پروفیسر ایس اے شکور نے مزید بتایاکہ حکومت سعودی عربیہ نے غذائی اشیاء ، کچی یا پکی ہوئی حالت میں لانے پر بھی پابندی عائد کی ہے لہذا عازمین حج کو تیل ، گھی ، اچار ، مچھلی ، مٹھائیاں ، ترکاریاں ، پھل یا دوسری اشیاء اپنے سامان کے ساتھ یا کسی دوسرے طریقہ سعودی عرب پہنچانے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ جدہ یا ہندوستانی ایرپورٹ پر کسٹم حکام ایسی اشیاء ضبط کرلیں گے ۔ مدینہ منورہ کے مرکزی علاقے میں کھانا پکانے کی سخت ممانعت ہے ۔ اس لیے اس سے اجتناب کریں ۔۔