حیدرآباد /16 ڈسمبر ( پریس نوٹ ) جمعیتہ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش نے وشاکھاپٹنم میں طوفان ہد ہد کی تباہ کاریوں کے بعد شدید طور پر متاثرہ 12 مساجد تعمیر و مرمت اور 100 جھونپڑیوں کی تعمیر نو کا بیڑا اٹھایا ہے ۔ صدر جمعیتہ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش مولانا حافظ پیر شبیر احمد ایم ایل سی نے وشاکھاپٹنم کا دورہ کرتے ہوئے مساجد کی تعمیر و مرمت کے کاموں کا جائزہ لیا ۔ اس موقع پر انہوں نے مسجد امن ، مدینہ باغ ، اسلام پیٹ اور مجسد انصار مدھورواڑہ کا سنگ بنیاد بھی رکھا ۔ طوفان ہد ہد کے نتیجہ میں جہاں بارہ مساجد بری طرح متاثر ہوئیں ، کئی جگہ چھتیں اڑ گئیں اور دیواریں منہدم ہوگئیں ۔ لیکن یہ دو مساجد پوری طرح شہید ہوگئی تھیں اور صفحہ ہستی سے کالعدم ہوگئی تھیں ۔ چنانچہ مولانا حافظ پیر شریب احمد نے ان دو مساجد کا سنگ بنیاد رکھا ، یہ مساجد آر سی سی میں تعمیر کی جائے گی ۔ آٹھ مساجد کی تعمیر کا کام مکمل ہوچکا ہے اور ان میں نمازوں کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔ مولانا حافظ پیر شبیر احمد نے دورہ سے واپسی کے بعد بتایا کہ طوفان کے بعد مسلمانوں کی پانچ سو سے زیادہ جھونپڑیاں بھی تباہ ہوگئیں ۔ حکومت آندھراپردیش نے متاثرین میں جھونپڑیوں کی تباہی پر فی کس ایک ہزار روپئے اور اسبسطاس کے مکانات کی تباہی پر فی کس 1500 روپئے کی امداد دی ہے ۔ جبکہ جھونپڑی کی تعمیر پر فی جھونپڑی پانچ ہزار روپئے اور اسبسطاس کے مکان کی تعمیر پر فی مکان 25,000/- روپئے کی لاگت آتی ہے ۔ جمعیتہ علماء نے مختلف علاقوں میں واقع ایک سو جھونپڑیوں کی تعمیر نو کا فیصلہ کیا ہے اور بہت جلد یہ کام شروع کردیا جائے گا ۔ مساجد کا سنگ بنیاد رکھے جانے کے موقع پر مقامی ایم ایل اے شری بنڈارو ستیہ نارائنہ مورتی ( حلقہ پیندروتی ) مولانا مطیع الرحمن ، مولانا حسن ، مولانا محمد غفران ، مولانا میراں ندوی ، مولانا عبدالرحمن ، مولانا ذوالفقار ، ڈاکٹر سی ایم اے ظہیر احمد ، جناب آئی ایم احمد ایڈوکیٹ اور جنرل سکریٹری مقامی جمعیتہ علماء مولانا ایس آر یو حسینی ( اسلم خان ) اور دوسرے موجود تھے ۔