حیدرآباد۔/11فبروری، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر اُمور تعلیم مسٹر کے سری ہری کی زیر صدارت سکریٹریٹ میں طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ کے مسئلہ پر تشکیل دی گئی کابینی سب کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ کوئی قطعی فیصلہ کے بغیر اجلاس غیر مختتم رہا۔ اس اجلاس میں طلبہ کے فیس ری ایمبرسمنٹ کے مسئلہ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ طلبہ کو کوئی نقصان ہوئے بغیر فیس ری ایمبرسمنٹ کیلئے قواعد و ضوابط مرتب کئے جائیں گے۔ اجلاس میں کابینی سب کمیٹی کے وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تلنگانہ حکومت نے قبل ازیں اعلان کردہ فاسٹ اسکیم کو منسوخ کردیا ہے اور فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کو ہی روبہ عمل لانے کا گزشتہ کابینی اجلاس میں فیصلہ کیا۔
این ایس ایس کے بموجب ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر کے سری ہری نے کہا کہ تلنگانہ اسٹیٹ میں فیس ری ایمبرسمنٹ 371-D کے مطابق عمل میں آئے گی۔ کابینی ذیلی کمیٹی اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کڈیم سری ہری نے جن کے پاس وزارت تعلیم کا قلمدان بھی ہے کہا کہ فیس اور اسکالر شپس کی ادائیگی کے طریقہ کار کا اجلاس میں جائزہ لیا گیا۔ 371-D کے مطابق ریاستی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسے طلباء کی فیس باز ادائیگی کی جائے جنہوں نے اے پی تقسیم بل 2014 کے تحت چار سال تلنگانہ میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے یہ معاملہ رجوع کیا جائے گا اور حکومت اندرون ایک ہفتہ فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں ایک اور اجلاس 15فبروری کو منعقد ہوگا۔ اس میں چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سفارشات کے تعلق سے قطعی فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ تعلیمی سال سے کے جی تا پی جی مفت تعلیم پر عمل آوری پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔