طلباء کی فلاحی اسکیم کمیٹی میں اقلیتی عہدیدار کی عدم شمولیت

ڈپٹی چیف منسٹر سے نمائندگی بھی بے اثر ، اقلیتی طلبہ میں الجھن
حیدرآباد۔/12اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے طلبہ کو معاشی امداد سے متعلق اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط کو قطعیت دینے کے کام میں تیزی پیدا کردی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مقامی ہونے کے مسئلہ پر مداخلت سے انکار کے بعد تلنگانہ حکومت کیلئے رہنمایانہ خطوط کی تیاری کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے تشکیل شدہ پانچ رکنی کمیٹی بہت جلد حکومت کو اپنی سفارشات پیش کردے گی۔ نئی اسکیم کے تحت اگرچہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی کے علاوہ اقلیتی طلبہ بھی استفادہ کنندگان میں شامل ہوں گے لیکن حکومت نے رہنمایانہ خطوط طئے کرنے والی کمیٹی میں اقلیتی بہبود کے عہدیدار کو شامل نہیں کیا۔ تلنگانہ طلبہ کو معاشی امداد سے متعلق اسکیم FASTپر رہنمایانہ خطوط کے سلسلہ میں 30جولائی کو جی او آر ٹی 36جاری کیا گیا تھا۔ اس جی او کے تحت ایس سی، ایس ٹی، بی سی کے پرنسپال سکریٹری کے علاوہ سکریٹری اعلیٰ تعلیم، پرنسپال سکریٹری پنچایت راج و رورل ڈیولپمنٹ، پرنسپال سکریٹری جی اے ڈی اور سکریٹری محکمہ قانون پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اقلیتی بہبود سے متعلق عہدیدار کو کمیٹی میں شامل کرنے کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی نے چیف منسٹر سے نمائندگی کی لیکن ابھی تک اس نمائندگی کا کوئی اثر نہیں ہوا اور اقلیتی بہبود کے سکریٹری کو کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا۔ اقلیتی بہبود سے متعلق عہدیدار کی عدم شمولیت کے باعث اقلیتی طلبہ کے مسائل پر کمیٹی کی جانب سے توجہ دینا ممکن نہیں ہے۔ اب جبکہ کمیٹی نے رہنمایانہ خطوط کو تقریباً قطعیت دے دی ہے لہذا اقلیتی طلبہ کیلئے شرائط و قواعد کے مسئلہ پر اُلجھن پائی جاتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ حکومت کمیٹی کی تشکیل کے وقت ہی اقلیتی بہبود کے عہدیدار کو شامل کرتی۔ اقلیتی طلبہ فیس بازادائیگی کے علاوہ اسکالر شپ اسکیم کے استفادہ کنندگان میں شامل ہیں۔ تعلیمی سال 2014-15 میں پوسٹ میٹرک کورسیس میں داخلے کے خواہشمند طلبہ کیلئے اس اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط طئے کئے گئے ہیں۔ حکومت نے فیس باز ادائیگی کے بجائے نئی اسکیم FAST کا اعلان کیا کیونکہ بازادائیگی اسکیم میں کئی بے قاعدگیاں پائی گئیں۔ حکومت نے طئے کیا ہے کہ ایسے طلبہ ہی اس اسکیم سے مستفید ہوپائیں گے جن کے آباء و اجداد یکم نومبر 1956ء سے تلنگانہ میں قیام پذیر ہوں، اس سلسلہ میں انہیں سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا جوکہ محکمہ مال کی جانب سے جاری کیا جائے گا۔ محکمہ مال کے عہدیدار ایک جامع طریقہ کار کے تحت طلبہ اور ان کے سرپرستوں سے تفصیلات حاصل کریں گے جس کے بعد ہی مقامی ہونے سے متعلق سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔ کمیٹی کی تشکیل کے بعد ایمسیٹ کونسلنگ کا مسئلہ سپریم کورٹ سے رجوع ہوا جس کے باعث کمیٹی نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش نہیں کی۔ سپریم کورٹ نے ایمسیٹ کونسلنگ سے متعلق کل اپنے فیصلہ کے دوران طلبہ کے مقامی ہونے سے متعلق مسئلہ پر مداخلت سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ فی الوقت یہ مسئلہ عدالت کے زیر غور نہیں ہے۔ اس طرح تلنگانہ حکومت کو بڑی راحت ملی کیونکہ سپریم کورٹ نے 1956ء کی شرط پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ بتایا جاتاہے کہ کمیٹی بہت جلد اپنی سفارشات حکومت کو پیش کردے گی کیونکہ 31اگسٹ تک انجینئرنگ کالجس میں داخلوں کا عمل سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق مکمل ہوجائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت اس اسکیم کے تحت تمام طلبہ کو مالی امداد فراہم کرنے کے موقف میں نہیں ہے بلکہ صرف میرٹ کی بنیاد پر 10فیصد طلبہ کو ہی مکمل فیس ادا کی جائے گی جبکہ دیگر مستحق طلبہ کو فیس کا ایک حصہ مختص کیا جائے گا جبکہ باقی فیس طالب علم کو اپنے طور پر ادا کرنی ہوگی۔