طلباء کو تلگو زبان پر عبور حاصل کرنے کا مشورہ

ادارہ سیاست کے زیراہتمام ایس ایس سی تلگو کتاب کی رسم اجراء، ڈاکٹر حفیظ الرحمن اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد 9 ڈسمبر (سیاست نیوز) دنیا کا کوئی مذہب کسی بھی زبان کو سیکھنے سے منع نہیں کرتا بلکہ جو انسان جتنی زیادہ زبانیں سیکھتا ہے وہ اتنا ہی قابل ہوگا۔ تلگو نہ صرف تلنگانہ اور آندھراپردیش ریاست کی سرکاری زبان ہے بلکہ یہ اسکولی سطح پر ایس ایس سی میں زبان دوم کی حیثیت سے پڑھنے کیلئے لازمی زبان ہے اور جب سے ایس ایس سی میں اس کو لازمی کردیا گیا اس کی اہمیت بڑھ گئی۔ ادارہ سیاست نے اس کو محسوس کرتے ہوئے سال 2006 ء سے ایس ایس سی تلگو زبان دوم کوئسچن بینک شائع کررہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار یہاں دفتر سیاست کے محبوب حسین جگر ہال میں ایس ایس سی تلگو مشقی سوالات کی کتاب کی رسم اجراء کرتے ہوئے ماہرین نے کیا۔ ڈاکٹر حفیظ الرحمن پروفیسر جواہر لال یونیورسٹی نئی دہلی نے کہاکہ آج انٹرنیٹ، سوشیل میڈیا کے زیادہ استعمال سے بینائی میں کمی ہورہی ہے اور ذہن بھی کمزور ہورہا ہے۔ وہ علم نافع ہے جو قلم اور کتاب سے حاصل کیا جائے گا۔ قرآن کی پہلی آیت جو پڑھنے سے شروع ہوئی اس میں بھی کتاب اور قلم کا ذکر اور حوالہ ہے۔ نئی نسل میں کتابوں کے ذوق کا فقدان ہے۔ جناب خلیق الرحمن نے اپنی تقریر میں تلگو زبان کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ادارہ سیاست کی کاوشوں کی ستائش کی کہ جناب زاہد علی خاں، جناب ظہیرالدین علی خاں اور جناب عامر علی خاں کی ذاتی دلچسپی اور کاوشوں سے کئی کام انجام پارہے ہیں۔ ایس ایس سی کے طلبہ کیلئے یہ کتاب نہایت مفید ثابت ہوگی، اس سے بھرپور استفادہ کریں۔ مسٹر آئی نہرو بابو ڈپٹی ایجوکیشنل آفیسر بہادر پورہ نے اپنی تقریر میں طلبہ کو وقت کے صحیح استعمال کے ساتھ 100 دن امتحان کیلئے باقی ہیں اور ان 100 دنوں میں سخت محنت سے وہ 100 نشانات حاصل کرسکتے ہیں۔ مسٹر اپلیا ڈپٹی ایجوکیشنل آفیسر بنڈلہ گوڑہ نے کہاکہ آج امتحان کا طریقہ کار بدل گیا۔ انٹرنل کے 20 نشانات اور بورڈ امتحان کے 80 نشانات ہیں اور کامیابی کیلئے ان کو ملاکر 35 نشانات دیکھے جاتے ہیں۔ یاد کرنے کے بجائے پراجکٹ ورک شامل نصاب ہوچکا ہے۔ جناب احمد بشیرالدین فاروقی ریٹائرڈ ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر نے اپنی تقریر میں کتاب کی تیاری میں جن اساتذہ نے تعاون کیا، اُن سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہاکہ یہ سلسلہ گزشتہ 15 برسوں سے جاری ہے۔ ادارہ سیاست اس کو طبع کرتے ہوئے مفت تقسیم کرتا ہے۔ جناب شاکر احمد سکریٹری بوسٹن مشن اسکول نے کتاب کی تیاری میں معاونت کی۔ نہ صرف حیدرآباد بلکہ اضلاع کے اسکولی طلبہ بھی یہ کتب حاصل کرتے ہیں۔ اس موقع پر مسٹر سرہال ریڈی نے جو گھاس کے رس کا تجربہ کئے، طلباء کو امتحان کے خوف دور کرنے اور کامیابی کے گُر بتائے۔ ابتداء میں بوسٹن مشن اسکول کی طالبات نے دعا ’’لب پہ آتی ہے‘‘ پڑھی۔ کتاب کے مولف جناب محمد رفیع ٹیچر بوسٹن مشن اسکول نے اس سے استفادہ کرنے اور تلگو زبان کو آسانی سے سیکھنے اور اچھے نشانات حاصل کرنے کا طریقہ بتایا۔ اس تقریب رسم اجرائی میں سرکردہ شخصیات، اسکولس کے ذمہ داران ڈاکٹر تقی الدین، محمد علی رفعت، محمد ابراہیم، سعیدالزماں جاوید، عفت محمد معید، محمد مستان، محمد بشیر احمد، ڈاکٹر شیلا کے علاوہ اضلاع نظام آباد، میدک، ورنگل کے اسکولس کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ ایم اے حمید نے نظامت کے فرائض انجام دیئے اور آخر میں شکریہ ادا کیا۔